ہفتہ، 13 جنوری، 2018

سوانح شیخ العرب والعجم عارف بالله مجددزمانہ حضرت مولاناشاہ حکیم محمد اختر صاحب نورالله مرقدہ



حلیم الامت حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم

فرزند ارجمند، نائب و قائم مقام شیخ العرب والعجم عارف باللہ مجدد زمانہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب نور اللہ مرقدہٗ
خلیفہ مُجاز بیعت محی السنہ حضرت اقدس مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ


ولادت باسعادت

حضرت مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم کی ولادت ۵ اکتوبر ۱۹۵۱ء کو شیخ المشائخ حضرت اقدس مولانا شاہ عبد الغنی صاحب پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ کے حجرۂ خاص میں ہوئی۔خوش قسمتی سے آپ نے علوم و معارف کے اس بحرِ بے کنار کی آغوش میں آنکھ کھولی جو مرجع خلائق تھا، جہاں علمی و روحانی انوار کی بارش اور معرفت کی خوشبوئیں پھیلی ہوئی تھیں، جہاں آسمانِ عشق و محبت اور علم و حکمت کا وہ آفتاب روشن تھا جس کی ضیاپاشیوں سے پورا عالم جگمگا رہا تھا۔

والد ماجد

آپ کے والد ماجد شیخ العرب العجم عارف باللہ مجدد زمانہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے، جن کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے شیخ العرب والعجم ،مجددزمانہ، عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب قدس سرہ کے ذریعہ سے احیاء السنہ، تزکیۂ نفس اور اصلاح اخلاق کا جو عظیم الشان کام لیا وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ،دین کے پانچوں شعبے (عقائد،عبادات، معاملات، معاشرت اوراخلاق) دوبارہ زندہ ہوگئے ۔ پوری دنیا میں گھر گھر ہزاروں بندگانِ خدا کی زندگیوں میں انقلاب آگیا،زندگی کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے وہ مسلمان جونفس وشیطان اور مغربی معاشرے سے مغلوب ہوکرگناہوں کی دلدل میں پھنسے ہوئے تھےاور بڑے بڑے منکرات میں مبتلاتھے تائب ہوکر دوسروں کےلیےمنارہ نور بن گئے،ہزاروں روحانی مریض شفا ء یا ب ہوکر ولی نہیں ولی گر بن گئے ۔

والدہ ماجدہ

حلیم الامت حضرت مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب کی والدہ ماجدہ وقت کی رابعہ بصریہ تھیں، جن کے متعلق حضرت اقدس مولانا شاہ عبد الغنی صاحب پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ یہ (یعنی حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب) تو صاحب نسبت ہیں ہی، لیکن ان کی گھر والی بھی صاحب نسبت ہیں۔
حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب کاحسن ظن اور ارشادات:

”پچاس سال تک ان کے جو حالاتِ رفیعہ دیکھے اس سے احقر کا گمان اقرب الی الیقین ہے کہ وہ ایک صاحب ِ نسبت، بہت بڑے درجہ کی ولیہ تھیں، دین میں وہ ہمیشہ میری مددگار رہیں، برسوں سے غیر ملکی اسفار ہو رہے ہیں، کبھی حائل نہ ہوئیں۔“



”سب سے بڑی بات یہ کہ ان کے پیٹ سے اللہ تعالیٰ نے مجھے مولانا محمد مظہر میاںسلمہ جیسا لائق، متقی، عالم بیٹا عطا فرمایا جن سے اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے دین کا عظیم الشان کام لے رہے ہیں اور ان کے بیٹے بھی ماشاء اللہ حافظ عالم ہو رہے ہیں۔ جس زمین سے سونے کا پہاڑ ملا ہو اس کی انسان کتنی قدر کرتا ہے، نیک اولاد کی نعمت عظمیٰ کا ذریعہ اور جڑ تو وہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مجھ کو اور میری اولاد کو قیامت تک خدمت ِ دینیہ کی توفیق بخشیں اور قیامت تک میری اولاد میں علماء ربانین علیٰ سطح ولایت الصدیقیت پیدا ہوتے رہیں تاکہ جو دینی ادارے اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے ہیں ان کو قیامت تک باحسن وجوہ چلانے کی میری اولاد کو اللہ تعالیٰ صلاحیت عطا فرمائے اور قبول فرمائے۔‘‘ آمین۔



”اللہ تعالیٰ میرے بیٹے مولانا محمد مظہر میاں صاحب سلمہ کی والدہ کو جزائے خیر دے، انہوں نے ستّر ہزار (کلمہ) پڑھ کر میری والدہ کو بخشاہے۔ اس کو کہتے ہیں ساس بہو کا تعلق حالانکہ میری والدہ زندہ نہیں ہیں لیکن انہوں نے اسی مہینے میں مجھے بتایا کہ ستّر ہزار پڑھ لیا ہے، اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور میری والدہ کی مغفرت کا سامان بنائے۔‘‘



”آج ایک راز کی بات بتاتا ہوں کہ میں ان کی بزرگی کا اتنا معتقد ہوں کہ ان کے وسیلہ سے اللہ سے دعا مانگتا تھا کیونکہ میں نے پچاس سال ان کو دیکھا کہ انتہائی تہجد گزار، بڑی صابرہ، بہت شاکرہ تھیں، دنیا کی محبت تو جانتی ہی نہ تھیں۔ زندگی بھر کبھی فرمائش نہیں کی کہ ہمیں ایسا کپڑا لا دو یا ویسا،جانتی ہی نہ تھیں کہ دنیا کہاں رہتی ہے،جب گھر میں جاتا تو دیکھتا کہ قرآن کھلا ہوا ہے اور تلاوت ہو رہی ہے۔“



ابتدائی تعلیم

حضرت مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم نے ابتدائی تعلیم پھولپور میں قاری مصطفیٰ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی۔ پاکستان ہجرت کے بعد حضرت قاری فتح محمد صاحب پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت قاری محمد یاسین صاحب مدظلہٗ سے قرآن کریم پڑھا۔

درسِ نظامی

پھر چشمۂ علم وعمل ”جامعہ دار العلوم کراچی“میں داخلہ لیا اور درجہ رابعہ تک تعلیم حاصل کی، بیضاوی اور جلالین مدرسہ اشرف المدارس ناظم آباد میں حضرت مفتی رشید احمد صاحب لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھیں، جن میں حضرت مفتی صاحب کے صاحبزادے بھی حضرت مولانا مظہر صاحب کے ہم درس تھے۔ اس کے بعد مزید دینی تعلیم کے حصول کے لیے جامعہ اشرفیہ لاہور کا انتخاب کیا اور یہیں سے سند ِفراغت حاصل کی اور بالآخر ۱۹۷۲ء میں زمانۂ طالب علمی سے نکل کر زُمرۂ علماء میں ایک ممتاز عالم دین کے منصب پر فائز ہوئے۔

اساتذہ کرام

آپ کے اساتذۂ کرام میں جلیل القدر علماء کرام اور بڑے درجے کے اولیاء اللہ شامل ہیں، صحیح البخاری کی دونوں جلدیں حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھیں جو اپنے وقت کے ولی کامل اور جلیل القدر محدّث تھے۔ ترمذی شریف مکمل حضرت مولانا محمد موسیٰ خان صاحب روحانی بازی رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھی جو علم وفضل کے ساتھ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی ممتاز مقام رکھتے تھے، درود شریف کے فضائل اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صفاتی ناموں پر مشتمل درود شریف کی مشہور کتاب ’’البرکات المکیۃ فی الصلوات النبویۃ“ انہی کی تصنیف ہے۔ صحیح مسلم شریف حضرت مولانا عبدالرحمٰن اشرفی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے، نسائی شریف حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب سے، سنن ابی داؤد حضرت مولانا صوفی محمد سرور صاحب دامت برکاتہم سے، موطا امام مالک حضرت مولانا محمد عبید اللہ صاحب اشرفی دامت برکاتہم سے پڑھی جو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے خاص شاگردوں میں ہیں اور طحاوی شریف فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی جمیل احمد صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھی۔

تزکیۂ نفس اور تربیت ِ سلوک

بچپن میں حضرت پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ کی خاص توجہات آپ پر رہیں۔ جب بڑے ہوئے تو ایک مدت تک بغرض اصلاحِ اخلاق و تزکیۂ نفس محی السنہ حضرت اقدس مولانا شاہ ابرار الحق صاحب ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں رہے، حضرت ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو اجازت ِ بیعت سے بھی نوازا۔ اس کے علاوہ حضرت مولانا شاہ محمد احمد صاحب پرتاب گڑھی کو بھی بغرضِ اصلاحِ احوال بذریعہ خطوط مطلع کیا جاتا تھا، حضرت پرتاب گڑھی رحمۃ اللہ علیہ بھی آپ پر بڑی شفقت فرماتے تھے۔

حضرت والارحمۃ اللہ علیہ کے تینوں مشائخ کی دعاؤں،توجہات اور عنایات کا مظہر

خانقاہ امدادیہ اشرفیہ کے روح رواں ،حلیم الامت حضرت اقدس مولاناشاہ حکیم محمد مظہر صاحب کو جہاں حضرت والارحمۃ اللہ علیہ کی مکمل توجہات، دعائیں،عنایات اوراعتماد حاصل تھا وہیں حضرت کے تینوں مشائخ،حضرت مولانا شاہ محمد احمد پرتاب گڑھی،شیخ المشائخ حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری، محی السنہ حضرت اقدس مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیھم اجمعین کی دعائیں اور توجہات و عنایات بھی حاصل تھیں۔

والدِ ماجد اورمربی شیخ العرب والعجم عارف باللہ مجددزمانہ
حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب نور اللہ مرقدہ
کاحسن ظن اوروالہانہ تعلق و محبت
۱۔ عارف باللہ حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب نور اللہ مرقدہٗ کو اپنے اکلوتے صاحبزادے حضرت مولانا محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم سے شدیدمحبت تھی اور حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ خود فرماتے تھے کہ اہل وعیال سے شدید محبت رکھنا جائز ہے لیکن اشد محبت صرف اللہ تعالی کی ہی ہونی چاہیے۔ حضرت والارحمۃ اللہ علیہ ان کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے اور خوب دعائیں دیتے تھے، حضرت مولانا محمد مظہر صاحب نے بتایا کہ ایک روز مجھ سے فرمانے لگے کہ بیٹا جس کی ایک ہی آنکھ ہو وہ اس کا کتنا خیال کرے گا؟ یہی وجہ ہے کہ حضرت مولاناکی دِینی تعلیم و رُوحانی تربیت میں حضرت نے بہت محنت فرمائی اور جب اس محنت اوردعاؤں کی قبولیت کے اَثرات حضرت مولانا محمد مظہر صاحب کی دِینی خدمات اور صلاح وتقویٰ کی صورت میں حضرت دیکھتے تھے تو فرماتے تھے کہ ”میرے ربَّا نے مجھے ایک بیٹا دیا لیکن بہت پیارا اور صالح دیا، فللّٰہ الحمد والمنۃ۔“

۲۔ ایک مرتبہ حضرت والا نور اللہ مرقدہٗ نے مولانا عبد اللہ برنی سے فرمایا کہ”میرے بیٹے کے ساتھ رہنا میرے ہی ساتھ رہنا ہے۔“اور حضرت مولاناکے ساتھ سفر کی اجازت مانگی تو فرمایا ”مولانا عبد اللہ تم خوب سفر کرو میرے بیٹے کے ساتھ، ان کے ساتھ رہو گے تو تم کو بہت روحانی فائدہ ہوگا۔“اور واقعی بہت فائدہ ہوا ۔

۳۔میں نے آپ حضرات سے عرض کیا تھا کہ مولانا محمد مظہر میاں سلمہٗ سے اپنی موجودگی میں جمعہ کا بیان کرادیا جائے،کیونکہ کبھی سفر درپیش رہتاہے،اس وقت میری عدم موجودگی میں بھی ان کا بیان ہوجایا کرے،اسی غرض سے آج میں نے خوب درد دِل کے ساتھ دعا کی اور آپ حضرات سے بھی دعاکی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ مولانا مظہر میاں سلمہٗ کو حسن بیان بھی عطا فرمائے اور درد بھرا دل بھی عطا فرمائے اور اخلاص بھی عطا فرمائے،آپ حضرات اس پر آمین کہہ دیجئے،میں امید کرتاہوں کہ آپ کا دل کافی خوش ہوا ہوگا اور میرادل بھی بے حد خوش ہوا،الحمدللہ انہوں نے کافی حد تک اسی انداز کے مضامین بیان فرمائے جیسے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس حقیر بندے کو توفیق عطا فرماتےہیں،انہوں نے مولانا رومی کے اشعار پر بھی کلام کیا جس سے اور بھی دل خوش ہوا، اللہ تعالیٰ میری اولاد میں ہمیشہ ایسا بندہ پیدا فرمائے جو اس خانقاہ کوآباد رکھے۔حضرت مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس خانقاہ کو اللہ تعالیٰ تا قیامت آباد رکھے، بزرگوں کی دعائیں لگی ہوئی ہیں،اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور میں اپنے تمام خاندان والوں کے لئے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو اور میرے خخاندان والوں کو اور آنے والی نسلوں کو اللہ والا بنائے،اور آپ کو اور آپ کے تمام خاندان والوں کو اللہ تعالیٰ اللہ والا بنائے۔

۴۔ایک موقع پر حضرت والا نور اللہ مرقدہ نے،حضرت والا دامت برکاتہم کو دعاکرانے کی دعوت دیتے ہوئے نہایت گریہ و زاری سے فرمایاکہ حضرت مولانا محمد مظہر میاں سلمہ ٗجو میرے بیٹے ہیں،اگر چہ ایک ہے (بعد ازاں حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ پر رقت طاری ہوگئی اور نہایت دردِ دل کے ساتھ فرمایا) مگر لاکھوں میں ایک ہے،اللہ تعالیٰ کافضل اور شکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہایت لائق و فائق بیٹا عطا کیا، یہ محض اس کا کرم ہے۔

۵۔ ایک موقع پر حضرت والاحضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت دامت برکاتہم کے بارے میں فرمایا کہ مجھے آپ حضرات کے آنے کی بے حد خوشی ہے اور خصوصاً اپنے بیٹے حضر ت مولانا محمد مظہر میاں سلمہٗ اور میرے پوتے مولانا محمد ابراہیم صاحب سلمہٗ کے آنے کی خوشی بالائے خوشی ہے،سب آئیں مگر اپنا خون نہ آئے تو کمی رہتی ہے،الحمد للہ، اللہ نے نہایت نیک بیٹا عطا فرمایا، نیک اولاد اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے،اللہ تعالی نے اختر کے بیٹے مولانا مظہر اور ان کے بیٹے و میرے پوتے مولانا ابراہیم اور مولانا اسماعیل اور مولانا محمداسحاق سب اللہ کے فضل سے نیک اور اللہ والے علماء ہیں،حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے چاروں بیٹے اولیاء اللہ اور اکابر علماء میں سے تھے،اللہ تعالیٰ اختر اور اختر کی آنے والی تمام نسلوں کو اولیاء اللہ بنائے،آمین۔

۶۔میرے بیٹے مولانا مظہر نے مولانا ابرار الحق صاحب کی خدمت کی، عشاء کے بعد سر میں تیل لگایا تو فجر ہوگئی تو حضرت کو بھی حیرت ہوئی لیکن اس خدمت کا یہ انعام ملا کہ آج وہ مجازِ بیعت ہیں اور ایک بہت بڑا مدرسہ چلا رہے ہیں اور علماء ان سے بیعت ہورہے ہیں۔ میں تو آپ ہی لوگوں کو چلا رہا ہوں، میں اب مدرسہ چلانے کے قابل نہیں ہوں بس گروہِ عاشقاں پر عاشق ہوں، اﷲ کے عاشقوں پر عاشق ہوں، سڑک ہو، دریا کا کنارہ ہو، جنگل ہو میری یہی خانقاہ ہے ۔بولو اس وقت یہ زمین اور یہ سڑک خانقاہ ہے یا نہیں؟

۷۔میرے بیٹے مولانا مظہر جب کم عمر تھے، پڑھ رہے تھے تو کسی بات پر میں نے ان کی پٹائی کا ارادہ کیا تو وہ بھاگے نہیں، اور لڑکے ہوتے تو وہ بھاگ جاتے، اﷲ تعالیٰ مولانا مظہر کے درجات کو بلند فرمائے، دل سے دعا نکلتی ہے، تو وہ بھاگے نہیں بلکہ میرے پاس بیٹھ گئے اور ٹوپی بھی اتار لی اور کہا کہ ابا مجھے جتنا چاہیں مار لیں، تو اس ادا سے میں خود رونے لگا۔اس لیے اپنے دوستوں کو سکھاتا ہوں مگر پتا نہیں کیوں ان کے دماغ میں ادب کی یہ باتیں نہیں گھستیں، دماغی کمزوری ہے یا کیا ہے، بھول جاتے ہیں، آپ نے دیکھا کہ بیٹا اعترافِ قصور اور سزا کے لیے تیار ہوا تو باپ خود رونے لگا، غصہ ختم کرنے کے لیے اس سے بہتر کوئی راستہ نہیں ہے۔

۸۔میرا ایک ہی بیٹا ہے ماشاء اﷲ، مجھے سہولت تھی کہ میں اس کو امریکہ میں ڈاکٹر یا انجینئر بناسکتاتھا۔ میرے ایک پیر بھائی تھے نواب خاندان سے، حیدرآباد سندھ میں رہتے تھے، انہوں نے کہاکہ اپنے بیٹے کوامریکہ بھیج دو۔ اشارہ اس میں کیاتھا کہ ہم خرچہ دیں گے لیکن میں نے کہا کہ نہیں میرا ایک ہی بیٹا ہے، میں کعبہ شریف میں اﷲکے گھر کا غلاف پکڑ کردعا کرچکا ہوں کہ اے اﷲ!آپ نے ایک بیٹا دیا ہے اس کو دین کے لیے قبول فرما۔ اس لیے میں اس کوامریکہ نہیں بھیجوں گا۔ امریکہ والے آج میرے بیٹے کے پیر دبا رہے ہیں، بڑی تعداد میں علماء ان سے مریدہورہے ہیں، لوگ داخل سلسلہ ہوئے اور ان کو بھی اس کاکوئی پچھتاوا نہیں ہے کہ مجھے ابا نے کیوں انجینئر یا ڈاکٹر نہیں بنایا بلکہ خوش ہیں، شکریہ ادا کررہے ہیں کہ اﷲ نے علم دین کی دولت عطا فرمائی۔

۹۔ ایک شخص نے قربانی کے زمانہ میں میرے بیٹے مولانا مظہر کو ٹیلیفون کیا کہ گائے کی کھال رکھی ہوئی ہے، کوئی آدمی بھیج دیجئے، میں آپ کے مدرسہ میں دینا چاہتا ہوں۔ مولانا مظہر میاں نے ان کو جواب دیا کہ آپ آدمی کیوں مانگتے ہیں کیا آپ آدمی نہیں ہیں؟ آہ! بعض وقت ایسی بات ان کے منہ سے نکلتی ہے کہ میں اﷲ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ ایک دفعہ اﷲ پاک نے ان کے دل میں یہ علم ڈالا کہ بعض بندے قابل ہوتے ہیں مگر مقبول نہیں ہوتے اور بعضے مقبول ہوتے ہیں مگر قابل نہیں ہوتے اور بعضے دونوں ہوتے ہیں مقبول بھی ہوتے ہیں قابل بھی ہوتے ہیں۔ اسی لیے کہتا ہوں کہ خالی علم کا سمندر مت دیکھو، یہ دیکھو کہ یہ قلندربھی ہے یا نہیں، اﷲ والا بھی ہے یا نہیں، قسمت کا سکندر بھی ہے یا نہیں، ورنہ بڑے بڑے علم کے سمندر اعمال میں اور اخلاق میں بندر یعنی نفس کے تابع ہیں۔

۱۰۔جب مشکل آجائے دورکعت پڑھ کر اﷲ سے مدد مانگو اور اوّل آخر درود شریف پڑھ کر ایک سو گیارہ دفعہحَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ پڑھو اور اﷲ سے مانگو کہ اے اﷲ میری سب مشکل دور فرما دے اور دشمنوں سے حفاظت کے لئے میں نے جو مجرب وظیفہ بتایا ہے یہ وظیفہ مولانا مسیح اﷲ خان صاحب جلال آبادی رحمۃ اﷲ علیہ کا بتایا ہوا ہے، لیکن اگر دشمن مسلمان ہے تو موت کی نیت نہ کرو بس یہی نیت ہو کہ یہ بھاگ جائے۔ حضرت جلال آبادی رحمۃ اﷲعلیہ کا بتایا ہوا یہ وظیفہ میں نے بھی اپنے دشمنوں پر آزمایا ہے، اس کا فائدہ یہ ہے کہ آج میرے قلب کو بھی اور میرے بیٹے مولانا مظہر کے قلب کو بھی اﷲ نے تکبر سے محفوظ فرمایا، جب دشمن ستاتا ہے تو دل ٹوٹ جاتا ہے، اﷲ تعالیٰ نے بھی پیغمبروں کے لیے فرمایا وَکَذٰلِکَ جَعَلۡنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا ہم نے ہر نبی کے لیے دشمن بنایا کیونکہ دشمن کی وجہ سے آدمی اﷲ سے زیادہ رجوع ہوتا ہے اور آہ و فریاد کرتا ہے اور اﷲ اپنی قدرت بھی دکھانا چاہتا ہے کہ ہم اپنے پیاروں کے دشمنوں کو کس طرح برباد کرتے ہیں جیسے ابو جہل نے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ ستایا۔

۱۱۔روحانی امراض میں ایک بڑا مرض غصہ کا ہے۔ مغلوب الغضب متعلقین کو حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ حکم فرماتے تھے کہ مولانا مظہر سلمہ کے پاس بیٹھو، ان کے اندر حلم کا مادّہ زیادہ ہے، ان کی صحبت سے تمہارے قلب میں صفتِ حلم منتقل ہوجائے گی، کتنے لوگوں کو حضرت مولانا مظہر صاحب کے پاس بیٹھنے سے اس مرض سے نجات مل گئی ۔

۱۲۔میرے بیٹے مولانا مظہر سلمہٗ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ ہیں۔ وہ کبھی کبھی مقروض بھی ہوئے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ اس بیٹے کو جزائے خیر دے، کبھی اس نے نہیں کہا کہ ابا آج کل میں مقروض ہوں، کسی مرید سے، آپ اہل خیر سے کچھ اشارہ کر دیں تا کہ میرا قرضہ ادا ہوجائے۔ مدرسہ وہی چلاتا ہے، یہ جو ڈیڑھ ہزار طلبہ ہیں اس میں حافظ اور عالم ہو ر ہے ہیں، اس مدرسہ سے میرا تعلق مولانا کی محنتوں سے ہے،میرا تو وہی ذوق ہے کہ جہاں کسی ملک نے اﷲ کی محبت میں بلایا فوراً پاسپورٹ ویزا لگوایا اورکبھی لندن، کبھی کنیڈا اور کبھی انگلینڈ روانہ ہوگیا۔

۱۳۔ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ اکثر اپنے حجرۂ مبارک میں تشریف فرما ہوتے، مریدین و سالکین بھی اسی حجرہ میں حاضر خدمت رہتے، جب حضرت والا کو ضعف زیادہ ہوتا تو حاضرین سے فرماتے کہ اب آپ باہر خانقاہ میں مولانا مظہر میاں سلمہٗ کے پاس جا کر بیٹھیں،ان کے پاس بیٹھنا میرے پاس بیٹھناہے۔

حضرت والا دامت برکاتہم کے استاذ
حضرت مولانا محمد عبید اللہ صاحب اشرفی دامت برکاتہم کاحسن ظن

حضرت مولانا مظہر صاحب دامت برکاتہم اپنے جلیل القدر اساتذہ کے حقوق سے بھی بحسن و خوبی عہدہ برا ہوئے نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کے اساتذہ نے بھی جا بجا آپ پر اعتماد کا اظہار فرمایا،جن میں سرفہرست شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور حضرت اقدس مولانا عبیداللہ صاحب مدّظلہم ہیں۔ شاگررشید،صحبت یافتہ حکیم الامت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ (جن کی سند حدیث تین واسطوں سے شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ تک پہنچتی ہے۔) ڈاکٹر منصور پراچہ صاحب ،حضرت حاجی افضل صاحب صحبت یافتہ حکیم الامت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے بھانجے اور حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے قدیم مرید ہیں، انہوں نے حضرت مولاناشاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم کے استاد کا یہ ارشاد نقل کیا کہ ایک مجلس میں میری موجودگی میں حضرت مولانا عبید اللہ صاحب نے عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے کہا کہ’’مرغی کے انڈے کی تربیت تو ہم نے مرغی بن کر کی لیکن مولانا مظہرسلمہٗ مرغی کے انڈے سے بطخ بن کر تیرتے ہوئے کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور ہم کنارے ہی کھڑے رہ گئے۔‘‘حضرت مولانا عبید اللہ صاحب کا یہ ارشاد حضرت مولانا محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم کے لیےاستاذ محترم کی طرف سے ایک سند کی حیثیت رکھتا ہے۔

محی السنہ حضرت اقدس مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ
کی جانب سے اجازت بیعت

حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ نے ابتداء ہی سے حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم کی تربیت فرمائی چنانچہ حضرت مولانا مظہر صاحب دامت برکاتہم کو اپنے والد محترم حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ سے کامل مناسبت تھی یہی وجہ ہے کہ آپ نے زمانۂ طالب علمی میں جامعہ اشرفیہ لاہور سے اپنے والد ماجد نور اللہ مرقدہ ٗ کوایک خط میں لکھا کہ میں نے بڑے بڑے اکابر کے بیانات سنے مگر جو روحانی کیفیت آپ کے بیان میں محسوس ہوئی وہ کہیں اور محسوس ہی نہیں ہوئی۔

اس کے باوجود حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت مولانا مظہر صاحب دامت برکاتہم کو باضابطہ طور پر حکیم الامت مجددالملت حضرت اقدس مولانااشرف علی صاحب تھانوی کے خلیفۂ اجل، ولی کامل، محی السنہ حضرت مولاناشاہ ابرارالحق صاحب حقی ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت کروایا،جن کی شبانہ روز صحبت نے آپ کے دل میں اشاعتِ دین اور مخلوقِ خدا کےساتھ ہمدردی و خیر خواہی کی آگ بھردی، آخرکار جب حضرت دامت برکاتہم محبت الٰہیہ اورعشق نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سمیت درد دل سے بہرہ مند ہوئے تو حضرت مولانا شاہ ابرارالحق صاحب حقی ہردوئی نے مدینہ شریف میں حضرت مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب مدظلہ کو جوانی میں خلافت عطا فرمائی ، حضرت ہردوئی کے سامنے مولانا محمد مظہر صاحب کو جب بیان کے لیے بلایا گیا تو ان کو حضرت مولانا ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ’’محبوب الخلفاء‘‘ہونے کا خطاب دیا گیا جس پر حضرت ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی خوشی کا اظہار فرمایا۔

اکابرعلماء کا رجوع

الحمدللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم سے اللہ تعالیٰ دین کے تمام شعبوں میں خوب کام لے رہے ہیں، پوری دنیاسے خوب رجوع ہورہا ہے، خصوصاً بڑے بڑے علماء سلسلہ میں داخل ہورہے ہیں۔اسی لیے حکیم الاُمت تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ جس پیر کے مرید علماء زیادہ ہوں تو سمجھ لو کہ یہ پیر سچا ہے،کیوں کہ علم کی روشنی رکھنے والے اس کے معتقد ہیں۔ بہت سے نابینا اگر بیٹھے ہوں اور کسی کے حسن کی تعریف کررہے ہوں تو آپ کو یقین نہیں کرنا چاہیے کہ جس کی خود آنکھیں نہیں ہیں وہ کہہ رہا ہے کہ فلاں کی آنکھیں بہت پیاری ہیں، کَعَیْنِ الظَّبْیِ مثل ہرن کی آنکھ کے۔ تو اس کے قول کو آپ جلدی نہیں مانیں گے۔ علماء کو اﷲ نے آنکھ دی ہے، علم کی روشنی دی ہے ،یہ جس کو پیر منتخب کریں تو سمجھ لو کہ اﷲتعالیٰ کا فضل ہے۔

دینی اداروں کی سرپرستی

حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم مجلس اشاعۃ الحق، جامعہ اشرف المدارس کراچی، خانقاہ امدادیہ گلشن اقبال کراچی کا انتظام بحسن و خوبی سنبھالنے کے ساتھ ساتھ متعدد دینی اداروں کی سرپرستی بھی فرما رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ دین کے مختلف شعبوں میں جس طرح خدمات لے رہے ہیں یہ بارگاہِ حق کی جانب سے قابل صد شکر نعمت ہے۔

منصب اصلاح و ارشاد

حضرت والانوراللہ مرقدہ کی حیاتِ مبارکہ میں روزانہ مختلف اوقات میں دینی اصلاحی مجالس کا سلسلہ جاری تھا، حضرت والادامت برکاتہم نے اس کڑی کو ٹوٹنے نہیں دیا بلکہ حضرت والانوراللہ مرقدہ کی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام ہی میں اس کام کو جاری و ساری رکھنے کا اہتمام کرنا شروع کردیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج بھی خانقاہ امدادیہ اشرفیہ گلشن اقبال کراچی میں روزانہ تین دینی و اصلاحی مجالس کا انعقاد ہورہا ہے۔

دینی تبلیغی اسفار

تشنگان جام شریعت و طریقت کی تشنگی مٹانے کے لیے قلب میں موجزن دریائے شریعت و طریقت لیے حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب کا اندرونِ ملک و بیرونِ ملک اسفار کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کے باعث بے شمار بندگانِ خدا راہِ شریعت و طریقت سے واقف ہوکر دیوانۂ حق بن رہے ہیں۔

الحمد للہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ساؤتھ افریقہ، رنگون، برما، بنگلہ دیش، انڈیا، سعودیہ، دُبئی، نیپال، کینیا، بوٹسوانا وغیرہ میں حضرت نے کئی اسفار کیے اور لاکھوں بندگان خدا حضرت والا دامت برکاتہم کے مسترشدین میں شامل ہیں، اور آپ کا حلقۂ احباب وسیع سے وسیع تر ہورہا ہے۔

اللہ تعالیٰ ان تمام دینی خدمات کو تاقیامت جاری و ساری رکھے اورحضرت والانوراللہ مرقدہ کے بعد مقبول دینی خدمات، صحت و عافیت، حاسدین کے شر سے حفاظت کے ساتھ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا سایہ ہم پر تا دیر قائم و دائم رکھے،آمین۔

پیر، 1 جنوری، 2018

الکوحل ملی دوائیں اور جلیٹین

*الکحل ملی ہوئ دواؤں کاحکم*

سوال یہاں مغربی ممالک میں اکثر دواؤں میں ایک فیصد سے لیکر 25فیصد تک *الکحل* شامل ہوتاہے اس قسم کی دوائیاں عموما, نزلہ. کھانسی گلے کی خراش جیسی معمولی بیماریوں میں استعمال ہوتی ہیں اور تقریبا 95فیصد دواؤں میں الکحل ضرور شامل ہوتاہےاب موجودہ دور میں الکحل سے پاک دواؤں کو تلاش کرنا مشکل ہے بلکہ ناممکن ہوچکا ہے ان حالات میں ایسی دواؤں کے استعمال کےبارے میں شرعا کیاحکم ہے؟

الــجــواب: الکحل ملی ہوئ دواؤں کامسئلہ اب صرف مغربی ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ اسلامی ممالک سمیت دنیا کے تمام ممالک میں یہ مسئلہ پیش آرہاہے, امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک تو اس مسئلہ کاحل آسان ہے اس لئے کہ امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمھماالله کے نزدیک کھجور اور انگور کے علاوہ دوسری اشیاء سے بنائ ہوئ شراب کو بطور دوا یاحصول طاقت کیلئے اتنی مقدار میں استعمال کرنا جائز ہے جس سے نشہ پیدا نہ ہو,
(فتح القدیرج8ص160)
دوسری طرف دواؤں میں جوالکحل ملایاجاتاہے اسکی بڑی مقدار کھجور اور انگور کے علاوہ دوسری اشیاء مثلا چمڑا, گندھک, شہد, شیرہ, دانہ, جو وغیرہ سے حاصل کی جاتی ہے,
(انسائیکلوپیڈیاآف برٹانیکا, ج1ص544)
لہذا دواؤں میں استعمال ہونے والا الکحل اگر انگور وکھجور کے علاوہ دوسری اشیاء سے حاصل کیاگیاہے تو امام ابوحنیفہ وامام ابویوسفؒ کے نزدیک اس دواء کااستعمال جائز ہے,
بشرطیکہ وہ حد سکر تک نہ پنہچے اور علاج کی ضرورت کیلئے ان دونوں اماموں کے مسلک پر عمل کرنے کی گنجائش ہے,
اور اگر وہ الکحل کھجور وانگور ہی سے حاصل کیاگیاہے تو پھر اس دوا کااستعمال ناجائز ہے, البتہ اگر ماہر ڈاکٹر یہ کہے کہ اس مرض کی اس کے علاوہ اور کوئ دوا نہیں ہے تو اس صورت میں اس کے استعمال کی گنجائش ہے… اس لئے کہ اس حالت میں حنفیہ کے نزدیک تداوی بالمحرم جائز ہے,
امام شافعیؒ کے نزدیک خالص اشربہ محرمہ(حرام شرابیں) کو بطور دوا استعمال کرنا کسی حال میں بھی جائز نہیں, لیکن اگر شراب کو کسی دوا میں اس طرح حل کردیا جائے کہ اس کے ذریعہ شراب کا ذاتی وجود ختم ہوجائے اور اس دوا سے ایسا نفع حاصل کرنا مقصود جودوسری پاک دوا سے حاصل نہ ہوسکتاہو تو اس صورت میں بطور علاج ایسی دواکااستعمال جائز ہے, جیسا کہ علامہ رملیؒ "نہایة المحتاج" میں فرماتے ہیں,

*اَمَّامُسْتَھْلِکَةٌ مَّعَ دَوَاءٍ آخَرَ فَیَجُوْزُ التَّدٰوٰی بِھَا، کَصَرْفِ بَقِیَّةِ النِّجَاسَاتِ اِنْ عُرِفَ اَوْ اَخْبَرَہٗ طَبِیْبٌ عَدْلٌ بِنَفْعِھَا وتُعِیْنِھَا بِاَنْ لَّا یَغْنٰی عَنْھَا طَاھِرٌ*

ایسی شراب جو دوسری دوا میں حل ہوکر اس کا ذاتی وجود ختم ہوجائے، جیساکہ دوسری نجس اشیاء کابھی یہی حکم ہے, بشرطیکہ علم طب کے ذریعہ اس کامفید ہونا ثابت ہو، یاکوئ عادل طبیب اس کے نافع اور مفید ہونے کی خبر دے اور اس کے مقابلہ میں کوئ ایسی پاک چیز بھی موجود نہ ہو جواس سے بے نیاز کردے,
(نہایة المحتاج للرملی ج8ص12)
اور خالص "الکحل" کااستعمال بطور دوا کے نہیں کیاجاتا، بلکہ یمیشہ دوسری دواؤں کے ساتھ ملاکر ہی استعمال کیاجاتاہے, لہذا نتیجہ یہ نکلا کہ امام شافعی رحمةالله علیہ کے نزدیک بھی "الکحل" ملی ہوئ دواؤں کو بطور علاج استعمال کرنا جائزہے,
مالکیہ اور حنابلہ کے نزدیک میرے علم کے مطابق تداوی بالمحرم حالت اضطرار کے علاوہ کسی حال میں بھی جائز نہیں,
بہرحال موجودہ دور میں چونکہ ان دواؤں کااستعمال بہت عام ہوچکا ہے اس لئے اس مسئلہ میں احناف یاشوافع کے مسلک کواختیار کرتے ہوئے ان کے مسلک کے مطابق گنجائش دینا زیادہ مناسب معلوم ہوتاہے,
واللّٰہ اعلم

پھر اس مسئلہ کے حل کی ایک صورت اور بھی ہے جس کے بارے میں دواؤں کے ماہرین سے پوچھ کر اس کو حل کیاجاتاہے, وہ یہ کہ جب "الکحل" کو دواؤں میں ملایا جاتاہے تو کیااس عمل کے بعد الکحل کی حقیقت اور ماہیت باقی رہتی ہے؟ یااس کیمیاوی عمل کے بعد اس کی ذاتی حقیقت اور ماہیت ختم ہوجاتی ہے؟ اگر "الکحل" کی حقیقت اور ماہیت ختم ہوجاتی ہے اور اس کیماوی عمل کے بعد وہ الکحل نہیں رہتا بلکہ دوسری شیئ میں تبدیل ہوجاتاہے تو اس صورت میں تمام آئمہ کے نزدیک بالاتفاق اس کااستعمال جائز ہے, اس لئے کہ شراب جب سرکہ میں تبدیل ہوجائے، اس وقت تمام آئمہ کے نزدیک حقیقت اور ماہیت کی تبدیلی کی وجہ سے اس کا استعمال جائز ہے,
واللّٰہ اعلم

*مغربی ممالک کے جدید فقہی مسائل اور انکاحل از شیخ الاسلام مفتی محمدتقی عثمانی صاحب حفظہ الله(ص42تا45)*

*جلیٹین استعمال کرنے کاحکم*

ســوال: یہاں مغربی ممالک میں ایسےخمیرے اور جلیٹین ملتی ہیں، جن میں خنزیر سے حاصل کردہ مادہ تھوڑی یازیادہ مقدار میں ضرور شامل ہوتاہے، کیاایسے خمیرے اور جلیٹین کااستعمال شرعاجائز؟
الـجـواب: اگر خنزیر سے حاصل شدہ عنصر کی حقیقت اورماہیت کیمیاوی عمل کے ذریعہ بالکل بدل چکی ہو تو اس صورت میں اس کی نجاست اور حرمت کاحکم بھی ختم ہوجائےگا اور اگر اسکی حقیقت اور ماہیت نہیں بدلی تو پھر وہ عنصر نجس اور حرام ہے(اور جس چیز میں وہ عنصر شامل ہوگا وہ بھی حرام ہوگی) واللّٰہ اعلم

*مغربی ممالک کے جدید فقہی مسائل اور انکاحل از شیخ الاسلام مفتی محمدتقی عثمانی صاحب حفظہ الله(ص45تا46)*

*ابــو مــحــمــداحـقـرامـــــدادالـــلّٰـــه عـــفــی عـــنـــه*

بدھ، 27 دسمبر، 2017

کیاآپ صلی اللہ علیہ وسلم حاضر ناظر ہیں

*کیاآپ ﷺ حاضرناظرہیں*
الــســؤال
کیافرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسلمانوں کاایک طبقہ رسول اﷲﷺ کو حاضر وناظر سمجھتاہے اور ان کی دلیل إِنَّا أَرْسَلْناكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا (الاحزاب : ۴۵) ہے۔جس میں شاہد کاترجمہ حاضر وناظرسے کرتے ہیں۔ کیایہ بات صحیح ہے؟قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

الــجــواب بـعـون الـمـلـک الـوھـاب

 صورت مسئولہ میں شاہد کامعنی حاضر وناظر کرنا اور دلیل میں یہ بیان کرناکہ گواہ وہ ہوتاہے جو دیکھ کر گواہی دے لہٰذا اس کے معنی حاضر وناظر کے ہوئے قطعاًصحیح نہیں ہے۔کیونکہ اگر اس کے معنی حاضر وناظر کے لیے جائیں تویہ معنی قرآن وسنت کی دوسری نصوص کے معارض ہے۔کیونکہ خود باری تعالیٰ نے :
❶حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ بیان فرمایا تو سورہ قصص آیت نمبر ۴۴ میں ہے: ’’اور آپ مغربی جانب نہیں تھے جب ہم نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی ‘‘۔اور آیت کے آخر میں فرمایا ’’ *وَمَا كُنْتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ* ‘‘پہلے آپ کے وہاں حاضر ہونے کی نفی کی کہ آپ وہاں نہیں تھے پھر صراحۃً شاہد یعنی بقول ان کے جو شاہد کاترجمہ حاضر وناظر سے کرتے ہیں یہاں حاضر وناظر کی نفی کردی۔
❷۔سورہ یوسف میں حضرت یوسف علیہ السلام کاواقعہ بیان فرمایا ،آخرمیں آیت نمبر ۱۰۲ میں فرمایا ’’یہ غیب کی خبرو ں میں سے ہے جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں اور آپ ان کے پاس نہیں تھے جب وہ اپنی بات طے کررہے تھے ‘‘۔ یہا ں پہلے آپ کے وہاں حاضر وناظر ہونے کی نفی اشارۃًکی کیونکہ فرمایا یہ غیب کی خبر ہے اور غیب اس چیز کو کہاجاتاہے جو ابھی تک دیکھی نہ ہو۔اگر آپ حاضر وناظر ہوتے تو پھر ’’غیب ‘‘کہاں باقی رہا۔اس کے بعد صراحۃنفی کی کہ *وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ* (آپ ان کے پاس نہ تھے )یعنی حاضر وناظر نہ تھے۔
❸۔سورہ ھود آیت نمبر ۱۷:’’جوشخص ﷲتعالی کی طرف سے بینہ پر ہو اوراس کے ساتھ شاہد ہو ……‘‘یہاں شاہد سے مفسرین نے قرآن ،بعض نے اعجاز قرآن اور بعض نے انجیل مراد لی ہے۔اب اگر شاہد کے معنی حاضر وناظر کئے جائیں تو پھر قرآن ،انجیل یااعجاز قرآن کے حاضر وناظر ہونے کے کیامعنی ہوں گے۔
*اسی طرح آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیات مبارکہ میں کتنے ہی ایسے واقعات پیش آئے جن سے آپ کے ہر جگہ حاضر وناظر ہونے کی نفی ہوتی ہے :*

❶۔صلح حدیبیہ کے موقع پررسول ﷲﷺ نے حضرت عثمان کوصلح کے لئے کفار مکہ کے پاس بھیجاتو اس وقت کفارنے مشہور کردیا کہ حضرت عثمان کو شہید کردیا گیا۔اس پر آپ ﷺنے حضرت عثمان کی شہادت کابدلہ لینے کے لئے صحابہ سے جہاد کے لئے بیعت لی اور آپ جہاد کیلئے تیار ہوگئے حالانکہ بعد میں پتہ چلاکہ شہادت عثمان کی خبر جھوٹی تھی۔اگر آپ حاضر وناظر ہوتے تو بتلادیتے کہ حضرت عثمان شہید نہیں ہوئے ،یہ جھوٹی خبر ہے۔
❷۔منافقین کی طرف سے معرکۃ الآراء بہتان جو حضرت عائشہ پر لگایاگیا اس میں آپ کافی دنوں تک سخت پریشان رہے۔ کبھی تو صحابہ سے مشورہ کیاجارہا ہے،کبھی حضرت عائشہ کے بارے میں ان کی خادمہ سے سوالات کئے جارہے ہیں۔یہاں تک کہ حضرت عائشہ اسی غم میں اپنے والد کے یہاں تشریف لے گئیں۔جب تک وحی نازل نہیںہوئی یہ پریشانی بدستور رہی۔اگر آپ حاضر وناظر ہوتے تو پہلے سے بتلادیتے کہ یہ حضرت عائشہ پر بہتان ہے۔
❸۔غزوہ خیبر کے موقع پر آپ کو کھانے میں زہر دیا گیا اور آپ کو پتہ نہ چلا بعد میں ﷲتعالی کی طرف سے جب بتلانے پر سبب ظاہر ہوا توآپ کو پتہ چلا۔اگرآپ حاضر وناظر ہوتے تو آپ کو پہلے سے پتہ ہوتا۔
ان کے علاوہ کتنے ہی ایسے واقعات ہیں جن سے آپ کے حاضر وناظر ہونے کی نفی ہوتی ہے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر جگہ حاضر وناظر یہ ﷲتعالی کی صفات میں سے ہے کیونکہ ﷲ تعالی فرماتے ہیں:
*وﷲ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَھِیْد، وَﷲ بَصِیرٌ بِمَا تَعْمَلُوْن، وَﷲُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ مُّحِیْط*
اورہماراعقیدہ ہے کہ لیس کمثلہ شیٔ (یعنی ذات اور صفات کسی بھی اعتبار سے خالق اور مخلوق کے درمیان مماثلت نہیں ہوسکتی )لہٰذا رب تعالی کی صفات کسی مخلوق میں نہیں ہوسکتیں۔
نیز قرآن کریم کی تشریح وتفسیر نقل کی محتاج ہے۔ہم اپنی طرف سے کوئی تفسیر یامعنی بیان نہیں کرسکتے جب تک کہ اسلاف اور مقتداء امت میں سے کسی نے یہ معنی یاتفسیر مراد نہ لی ہو ورنہ نبی کریمﷺ کی اس روایت کی وعید کے مصداق بنیں گے کہ آپ فرماتے ہیں: *من قال فی القرآن برأیہ فاصاب فقداخطأ* (یعنی اگر کسی نے قرآن کی تفسیر اپنی رائے اور خیال سے کی اور رائے ہونے کے باوجود حقیقت کے مطابق ہوگئی اور مراد وہی تھی وہ پھر بھی غلطی پر ہے )۔اور اسلاف امت میں سے کسی نے اس کے معنی حاضر وناظر کے نہیں کئے من ادعیٰ فلیأت بحجۃ۔
اب رہی یہ بات کہ اگر شاہد سے مراد حاضر وناظر نہیں توپھر کیا مراد ہے تو اس کی تشریح میں مختلف اقوال ہیں :
*اول* : آپ کواس امت اور سابقہ امتوں کے انبیاء کی تبلیغ پر گواہ بنایاگیا اور اس گواہی کی بنیاد آپ کا حاضر وناظر ہونانہیں بلکہ قرآن کریم کایہ بیان ہے ’’سابقہ امتوں کے انبیاء نے اپنی امتوں تک ﷲ کاپیغام پہنچادیا ‘‘۔
*دوم* : اﷲتعالی کی وحدانیت پر گواہ بناکر بھیجا۔
*سوم* : شاہ عبدالقادر اور امام راغب اصفہانی نے شاہد کامعنی معلم سے کیا یعنی اے نبی ! ہم نے آپ کو معلم بنا کر بھیجا۔
اور اگریہ کہاجائے کہ نبی علیہ السلام اپنے روضہ اطہر سے ہی کائنات کامشاہدہ کررہے ہیں تویہ بات بھی روایات کے خلاف ہے۔ کیونکہ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبدﷲ بن مسعود فرماتے ہیں کہ:
’’ رسول اﷲﷺ نے فرمایاکہ اﷲ تعالی کے فرشتے زمین میں گھومتے ہیں اور مجھے میری امت کاسلام پہنچاتے ہیں ‘‘۔
اسی طرح حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ :
رسول ﷲﷺ نے فرمایاکہ جو شخص میرے روضہ کے پاس درود پڑھتاہے میں اس کو خود سنتاہوں اورجو دور سے پڑھتاہے وہ میرے پاس پہنچایاجاتاہے ۔
اگر آپ ساری کائنات کاخود مشاہدہ فرماتے ہیںتو پھر جہاں بھی کوئی امتی درود پڑھتاآپ کو معلوم ہوجاتا،حالانکہ جو امتی روضہ اطہر سے دور آپ پر درود پڑھتے ہیں فرشتوں کے ذریعے آپ تک پہنچایاجاتاہے۔ حاصل یہ ہے کہ شاہد کے معنی حاضر وناظر سے کرنا نصوص کے خلاف اور بالکل بے اصل ہے جس سے احتراز ضروری ہے۔
*لمافی روح المعانی (۴۵/۲۲): يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا۔ علی من بعثت الیھم تراقب احوالھم وتشاھد اعمالھم وتتحمل عنھم الشھادۃ بماصدر عنھم من التصدیق والتکذیب وسائر ماھم علیہ من الھدی والضلال ……ثم ان تحمل الشھادۃ علی من عاصرہ واطلع علی عملہ امرظاھر واماتحملھا علی من بعدہ باعیانھم فان کان مرادا ایضا ففیہ خفاء لان ظاھر الاخبار انہ علیہ السلام لایعرف اعمال من بعدہ باعیانھم ، روی ابوبکر وانس وحذیفۃ وسمرۃ وابوالدرداء رضی اللہ عنھم لیردن علی ناس من اصحابی الحوض حتی رأیتھم وعرفتھم اختلجوا دونی فاقول یارب اصحابی اصحابی فیقال لی انک لاتدری مااحدثوا بعدک نعم قدیقال انہ علیہ الصلوۃ والسلام یعلم بطاعات ومعاص تقع بعدہ من امتہ لکن لایعلم اعیان الطائعین والعاصین ……واما زعم ان التحمل علی من بعدہ الی یوم القیمۃ لماانھا حی بروحہ وجسدہ یسیر حیث شاء فی اقطار الارض والملکوت فمبنی علی ما علمت حالہ ……وقیل المراد شاھدابان لاالہ الااﷲ۔وفی احکام القرآن للقرطبی (۲۰۰/۱۴)*
*قولہ تعالی شاھدا قال سعید عن قتادۃ شاھد اعلی امتہ بالتبلیغ الیھم وعلی سائر الامم بتبلیغ انبیائھم ونحوذلک۔*
*وفیہ ایضا (۱۶/ ۲۷۶) تحت آیۃ ’’لقد رضیﷲعن المؤمنین الآیۃ ‘‘: وکان رسول اﷲﷺ قبل الصلح قد بعث عثمان بن عفان ؓالی مکۃ رسولا فجاء خبر الی رسول اﷲﷺ بان اھل مکۃ قتلوہ فدعا رسول اﷲﷺ حینئذ الی المبایعۃ لہ علی الحرب والقتال لاھل مکۃ فروی انہ بایعھم علی الموت*
*وفیہ ایضا (۱۲/ ۱۹۷): تحت ’’آیۃ ان الذین جاؤو بالافک عصبۃ منکم لاتحسبوہ شرالکم بل ھو خیر لکم لکل امریٔ منھم مااکتسب من الاثم ، والذی تولی کبرہ منھم لہ عذاب الیم‘‘: سبب نزولھا مارواہ الائمۃ من حدیث الافک الطویل فی قصۃ عائشۃ رضوان اﷲعلیھا ، وھو خبر صحیح مشھور أغنی اشتھار ہ عن ذکرہ۔*
*وفی الصحیح للبخاری (۶۱۰/۲): حدثنا عبداﷲبن یوسف …عن ابی ھریرۃ لمافتحت خیبر اھدیت لرسول اﷲﷺ شاۃ فیھا سم۔*
*وفی المشکوۃ (صـ۸۶): عن ابن مسعود ؓ قال قال رسول اﷲﷺ : ان ﷲملائکۃ سیاحین فی الارض یبلغونی من امتی السلام۔*
*وفیہ ایضا (صـ۸۷): عن ابی ھریرۃ ؓ قال قال رسول اﷲﷺ: من صلی عند قبری سمعتہ ومن صلی نائیا ابلغتہ۔*

*نجم الفتاوی جلد1*

اتوار، 29 اکتوبر، 2017

تقدیر اور اعمال



جب تقدیر میں سب کچھ لکھ دیا گیا ہے تو عمل کا کیا فائدہ؟


بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے کہ کون شخص جنتی ہے اور کون سا شخص جہنمی ہے تو اب عمل کرنے سے کیا فائدہ؟ ہو گا تو وہی جو تقدیر میں لکھا ہے۔
خوب سمجھ لیجئے! کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم وہی عمل کرو گے جو تقدیر میں لکھا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقدیر میں وہی بات لکھی ہے جو تم لوگ اپنے اختیار سے کرو گے،اس لیے کہ تقدیر تو علم الہی کا نام ہے،اور اللہ تعالیٰ کو پہلے سے پتے تھا کہ تم اپنے اختیار سے کیا کچھ کرنے والے ہو،لہذا وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ دیا،لیکن تمہارا جنت میں جانا یا جنہم میں جانا درحقیقت تمہارے اختیاری اعمال ہی کی بنیاد پر ہاگا،یہ بات نہیں ہے کہ انسان عمل وہی کرے گا جو تقدیر میں لکھا ہے،بلکہ تقدیر میں وہی لکھ دیا گیا ہے جو انسان اپنے اختیار سے عمل کرے گا، اللہ تعالیٰ نے انسان کو اختیار دیا ہے اور اس اختیار کے مطابق انسان عمل کرتا رہتا ہے،اب یہ سوچنا کہ تقدیر میں تو سب لکھ دیا گیا ہے،لہذا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاو،یہ درست نہیں ہے، چنانچہ جب حضور اقدس ﷺ نے یہ حدیث بیان فرمائی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھ کیا کہ: ففیما العمل یا رسول اللہ ﷺ ؟
جب یہ فیصلہ ہو چکا کہ فلاں شخص جتنی اور فلاں شخص جہنمی،تو پھر عمل کرنے سے کیا فائدہ؟ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا:اعلمو .افکل میسر لما خلق لہ
یعنی عمل کرتے رہو،اس لیے کہ ہر انسان کو وہی کام کرنا ہوگا جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا تھا،لہذا تم اپنے اختیار کو کام میں لاکر عمل (کرتے رہو۔(اصلاحی خطبات،ج ۸،ص ۱۶۷

جمعرات، 19 اکتوبر، 2017

شہادت سیدنا حسینؓ



شہادت سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
تمہید :۔
حضرات !اہل سنت میں رتبہ شہادت پر فائز ہونے والوں کی کمی نہیں ہے شہداء احد بھی ہیں ،اور شہداء بدر بھی ہیں ،شہدا ء حنین بھی ہیں ،اور شہداء یمامہ بھی ،شہداء خیبر بھی ،اور شہداء کربلابھی ،شہداء جمل بھی ہیں ،اور شہداء صفین بھی۔ دوسرے لوگ تو صرف اس لئے چند حضرات کی شہادت بیان کرتے ہیں کہ وہ صحابہ کرامص میں سے جنہوں نے اپنے محبوبؐ کے سامنے جام شہادت نوش کیااور پروانہ وار قربان ہوئے نہ ان کو شہید مانتے ہیں اور نہ ان کے ایمان کے قائل ہیں ۔
لیکن تعجب اہل سنت علماء پر ہے جو انہیں شہید بھی مانتے ہیں لیکن ان کی شہادت کے واقعات ممبروں پر بیان نہیں کرتے ۔
شہادت ایک نعمت ہے حبیب کبریا ؐ نے بھی اس کی تمنا کی ہے
قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم انی وددت ان اقتل ثم احی ثم اقتل ثم احی ثم اقتل ۔ (مشکوٰۃ )
حضرت کریم انے فرمایا میں چاہتاہوں کہ مجھے شہید کردیا جائے پھر زندہ کیا جاؤں پھر جام شہادت نوش کروں پھر زندہ کیا جاؤں پھر خدا کے راستے میں قربان ہوجاؤں۔
مسلمان کی فطرت میں داخل ہے کہ زندہ رہے گا تو مجاہدبن کر اور مریگا تو شہید ہوکر
تمہیں سے اے مجاہدو دین کی ثبات ہے
شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے
جب مسلمان تیغ بکف گھر سے باہر نکلتا ہے تو کامیابی اس کے قدموں کو چومتی ہے
مرے شہید ہو مارے اگر تو غازی ہو
یہ راہ وہ ہے کہ جس میں ہر طرح سے سرفرازی ہو
شہید مرتا نہیں ہے بلکہ وہ موت کی دیوار پھاند کر فانی حیات سے باقی حیات میں قدم رکھتا ہے اسی لئے خداتعالیٰ نے شہید کو مردہ کہنے سے منع کیا ہے بلکہ اتناقدر کنٹرول کیا ہے کہ شہدا کے متعلق مردہ ہونے کا تصور اور تخیل بھی ممنوع قرار دیدیا ہے چنانچہ قرآن مجید میں فرمایا ہے ۔
وَلَاتَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْافِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًابَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوُنَ۔(پ۴)
اورخدا کے راستے میں شہید ہونے والوں کو مردہ گمان نہ کرنا بلکہ خداتعالیٰ کے ہاں زندہ ہیں رزق دیئے جاتے ہیں ۔
جب شہادت نیز شہداء کے متعلق آپ نے ارشادات ربانی ملاحظہ فرمالئے اب ہم سیدنا حسینؓ کی شہادت کا واقعہ پیش کرتے ہیں
شہادت کی حقیقت کو سمجھتے ہیں خدا والے
شہادت خوب اس کی دے گئے ہیں کربلاوالے
شہادت اک نخیل لازوال اور غیر فانی ہے
شہادت خود ہی تفسیر حیات جاودانی ہے
لیکن مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے حسنین مکرمین کے فضائل ومناقب بیان کردیئے جائیں تاکہ ان کا رتبہ ومقام نیز ان کی توقیر وتکریم قلوب واذہان میں مرکوز ومصؤن ہوجائے ۔
فضائل حسنین مطہرین
حضرت کریم ؐکا سیدنا حسن سے اظہار محبت
عن ابی ھریرہؓ قال رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یمص لسان الحسنؓ کما یمص الرجل التمرۃ۔
(کنزالعمال جلد۱ صفحہ ۱۰۴)
حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا کہ میں نے حضور اکو دیکھا ہے کہ وہ حضرت حسنؓ کی زبان کھجور کے پھل کی طرح چوستے تھے۔
سیدنا حسنؓ کی اولاد سے حضرت مہدی پیدا ہوں گے
حضرت علی مرتضٰیؓ کی پیشین گوئی :۔
عن ابی اسحق قال قال علیؓ ونظر لی وجہ ابنہ الحسن فقال ان ابنی ہذاسیدکماسماہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم سیخرج من صلبہ رجل یسمی اسم نبیکم یشبہہ فی الخلق ولا یشبہ فی الخلق یملاء الارض عدلا۔
ابی اسحقؓ سے روایت ہے حضرت علیؓ مرتضیٰ نے اپنے بیٹے حضرت حسنؓ کی طرف دیکھ کر فرمایا یہ میرا بیٹا سید ہے جیسا کہ حضور ؐنے اس کا نام رکھا ہے قریب ہے کہ اس کے نسب سے ایک مرد پیدا ہوگا جس کا نام محمد ہوگا خلق میں تو حضور ؐ کے مشابہ ہوگا لیکن شکل میں مشابہ نہیں ہوگا زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا (کنزالعمال ج ۱ ص ۱۰۴)
صلح کا پیکر سیدنا حسنؓ :۔
عن جابر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم للحسن ان ابنی ہذا سید ولیصلحن اللہ بہ وفی لفظ علی یدیہ بین الفئتین من المسلمین عظیمتین۔(کنز العمال جلد ۱ ص ۱۰۸)
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسنؓ کے متعلق فرمایایہ میرا بیٹا سید ہے ،خداتعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دوبڑی جماعتوں کے درمیان صلح کرائیں گے۔
فائدہ :۔حضرت کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باعلام خداوندی سیدنا حسنؓ کے متعلق جو پیشینگوئی فرمائی وہ سیدنا معاویہؓ کے ساتھ صلح کرنے کی شکل میں پوری ہوئی۔
حسنین مکرمین کی مشترکہ فضیلت :۔
عن عمرقال رأیت الحسن والحسین علی عاتقی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقلت نعم الفرس تحتکما فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ونعم الفارسان ہما۔
حضرت عمرؓ نے فرمایا میں نے حضرت نبی کریم اکے کندھوں پر حسنین کو دیکھا تو میں نے کہا بہتر سواری ہے تو حضرت انے فرمایا دونوں سوار بھی بہتر ہیں۔ (کنزالعمال جلد ۱ صفحہ ۱۰۶)
دو تابدار گوہر ہم شکل مصطفیؐ تھے:۔
عن علیؓقال من سرہ ان ینطرالی اشبہ الناس برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مابین عنقہ الی وجہہ فلینظر الی الحسن ومن سرہ ان ینظر الی اشبہ الناس برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مابین عنقہ الی کعبیہ خلقا ولونا فلینظر الی الحسین ابن علی۔ (کنزالعمال جلد ۱ صفحہ ۱۰۶)
حضرت علیؓمرتضیٰ نے فرمایا جس نے گردن سے لیکر چہرے تک حضور اکے زیادہ مشابہ دیکھنا ہو وہ حضرت حسنؓ کو دیکھے اور جس نے گردن سے لیکر ٹخنوں تک شکل رسول مقبول اکے زیادہ مشابہ دیکھنا ہووہ حسین ابن علی کو دیکھے۔
رحمۃ للعالمین کااظہار مسرت :۔
عن حذیفۃ ابن الیمان قال رأینا فی وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم السرور یوما من الایام فقلنا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لقد رأینا فی وجہک بتاثیرالسرور قال وکیف لا اسرو قد اتانی جبریل فبشر نی ان الحسن والحسین سید الشباب اہل الجنۃ (کنزالعمال صفحہ ۱۰۸)
حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے فرمایا ایک دن حضور ؐکے چہرے میں خوشی دیکھی تو ہم نے وجہ مسرت دریافت کی آپ نے فرمایا میں کیسے خوش نہ ہوں میرے پاس جبرائیل آیا ہے اور اس نے مجھے بتایا ہے کہ حضرت حسنؓ او رحضرت حسینؓ نوجوانان جنت کے سردار ہیں
نیا فرشتہ اور نئی بشارت :۔
عن ابی حذیفۃؓ قال بت عندرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرأیت عندہ شخصا فقال لی یاحذیفۃ ہل رأیتہ ؟قلت نعم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ہذا ملک لم یہبط الی منذبعثت اتانی اللیلۃ فبشرنی الحسن والحسین سید الشباب اہل الجنۃ (کنزالعمال صفحہ ۱۰۸)
حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ میں حضور علیہ السلام کی خدمت میں ایک رات رہا ہوں تو میں نے ایک شخص کو دیکھا آپ نے فرمایا کیا تو نے اسے دیکھا تھا ؟میں نے عرض کی ہاں یارسول اللہ فرمایا یہ فرشتہ آج کے بغیر کبھی بھی میرے اوپر نازل نہیں ہوا جب سے میں نے دعوٰی نبوت ظاہرکیا ہے، اس نے مجھے خبر دی ہے کہ حسنین بہشتی نوجوانوں کے سردار ہیں ۔
صدیق اکبرؓ کے قلب اطہر میں حضرت حسنؓ کی محبت :۔
ان ابابکر رأی الحسنؓ کان یلعب بالصبیان فاسرع الیہ فکان الحسن یفریمینا وشمالا فالتصقہ بالصدرو قال شبیہا بالنبی لا بالعلی۔
حضرت صدیقؓ اکبر نے حضرت حسنؓ کو دیکھا کہ وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہاتھا تو ابوبکرؓ نے اسے محبت کی وجہ سے پکڑنا چاہا اور حضرت حسنؓ کبھی دائیں جاتے تھے توکبھی بائیں پس حضرت ابوبکرؓنے حضرت حسنؓ کوسینے سے لگاکر کہا شکل ناناوالی ہے باپ والی نہیں ہے۔
حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کے قلب میں سیدنا حسنینؓ کی محبت :۔
نفضل الشیخین نحب الحسنین نری المسح علی الخفین
ہم صدیقؓ وعمرؓ کو افضل مانتے ہیں حسنینؓ کو محبوب رکھتے ہیں موزوں پر مسح کرنا جائز سمجھتے ہیں۔
ان تمام دلائل سے معلوم ہوا کہ اہل سنت عترت رسول ؐ کے نہ صرف قائل ہیں بلکہ ان کی مدح وتوصیف اپنے لئے باعث نجات سمجھتے ہیں اور ان کے قدموں کی گردوغبار کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنانے کے لئے تیار ہیں۔
ایک ضروری بحث :۔
بعض لوگ جذبات میں یہ کہہ دیتے ہیں کہ اگر حضرت معاویہؓ یزید کو تخت امارت پر مقرر نہ کرتے تو یزید برسر اقتدار نہ آتا ۔اور اگر یہ باشاہ نہ بنتا تو سیدنا حسینؓ شہید نہ ہوتے حالانکہ یہ محض ان لوگوں کا گمان ہے اگر اس تسلسل کو صحیح مان لیا جائے تو دوسرے کوبھی یہ کہنے کا حق ہے کہ اگرسیدنا حسنؓ مملکت عربیہ اسلامیہ کو حضرت معاویہؓ کے سپرد نہ کرتے تو یہ واقعات رونما نہ ہوتے۔
دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیئے کہ کہنے والا یوں بھی کہہ سکتا ہے کہ سیدنا حسینؓ اس لئے شہید ہوئے کہ یزید امیر بنا اور یزید اس لئے بنا کہ حضرت معاویہؓ نے اسے نامزد کیا اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے تب نامزد کیا جب حضرت حسنؓ نے ان کو مملکت اسلامیہ کا بادشاہ بنایا اورحضرت حسنؓ نے تب سپرد کیا جب حضرت علیؓنے ان کو امارت سپرد کی۔
خلاصۃ الکلام :۔
یہ کہ شہادت حسینؓ کا جس طرح سیدنا علی المرتضیٰؓ اور سیدنا حسنؓ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا ،اسی طرح حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اس ذمہ داری سے بری ہیں ۔
قیامت تک کوئی ثابت نہیں کرسکتا :۔
کہ سیدنا معاویہؓ نے یزید کو حضرت حسینؓ کے قتل کاحکم دیا ہو،یا وصیت کی ہو بلکہ شیعوں کی معتبر کتابوں میں مرقوم ہے کہ حضرت معاویہؓ نے یزید کو کہاتھا کہ اہل بیت رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہتر تعلقات رکھنا۔
چنانچہ اہل تشیع کے معتبر عالم گیارہویں صدی کے مجتہد کتب متعددہ کے مصنف مذہب تشیع کے محسن اپنی لاجواب تصنیف جلا ء العیون مطبوعہ ایران میں لکھتے ہیں۔
محبت حضرت حسینؓ اور حضرت معاویہؓ :۔
امام حسینؓ پس میدانی نسبت وقرابت اور آنحضرت رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اوبارہ تن آنحضرت است واز گوشت وخون اوپر ور دہ شدہ است ومن میدانم البتہ اہل عراق اور ابسوئے خود خواہند بردو یاری اور نخوا ہند کرد و اور اتنہا خواہند گذاشت اگر براوظفر یابی حق حرمت اورا بشناس ومنزلت وقرابت اور اباپیغمبر یا آوردواور رابکرد ہائے اومو اخذہ مکن ،وروابطے کہ من بااودریں مدت محکم کردہ ام زینہار کہ باومکرد ہے وآسیبے مرساں (جلاء العیون صفحہ ۳۴۸)
حضرت حسینؓ کے متعلق تجھے خبر ہے کہ حضور علیہ السلام کے ساتھ اس کی کیا نسبت ہے اور کیا رشتہ داری ہے ؟وہ حضور ؐکا گوشہ جگر ہے اور حضورؐکے گوشت وخون سے پلاہوا ہے مجھے خبر ہے کہ حضرت حسینؓ کو عراق والے اپنی طرف بلائیں گے مگر وفا نہیں کریں گے اور اسے اکیلا چھوڑ دیں گے اگر تجھے ان پر کامیابی ہوجائے تو حسینؓ کی قدرو منزلت کا خیال کرنا اور حضور ؐکے ساتھ تعلقات کا لحاظ رکھنا اور وہ تعلقات جو ان سے میں نے آج تک وابستہ کیئے ہیں ان کو نہ توڑنا اور اگر وہ تیرے خلاف چلیں تو ان سے محاسبہ ہرگز ہرگز نہ کرنا ۔
یہ وہ وصیت ونصیحت ہے جو کہ حضرت معاویہؓ نے یزید کو حضرت امام حسینؓ کے حق میں کی ،اگر سید نا معاویہؓ اہل بیت کے دشمن ہوتے تو ایسا بیان نہ دیتے۔
سیدنا معاویہؓ کے متعلق منہاج التبلیغ حصہ اول میں لکھا جاچکا ہے کہ وہ خدا، رسول خدا اور حضرت علیؓ کی نگاہ میں کیا قدرو منزلت رکھتے تھے اس میں شک نہیں کہ آپ نے یزید کو حکمران بنایا او ر مجلس مشاورت کے مشورے کے مطابق بنایا لیکن یہاں قابل تحقیق دو امور ہیں،
(۱)۔۔۔امارت اپنے بیٹے کے سپرد کیوں کی ؟
(۲)۔۔۔آ پ نے اس امر کو مسلمانوں کے سپرد کیوں نہ کیا ؟
اہل سنت کا مسلک :۔
یہ ہے کہ سیدنا معاویہؓ بلاشبہ صحابی رسول ہیں لیکن ان کا رتبہ نہ مہاجرینؓ کے برابر ہے اور نہ انصارؓ کے۔ رہے حضرت علیؓ وہ تو والسابقون الاولون من المہاجرین میں داخل ہونے کی وجہ سے صف اول میں شمار کیئے جاتے ہیں اسی طرح یزید ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا ہے لیکن مصطفی کریم کے گوشہ جگر نور بصر حضرت حسینؓ بن علیؓ کی شان کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
حضرت حسینؓ ابن علیؓ بھی ہیں اور ابن رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں حضرت حسینؓ کی آنکھوں کو لبہائے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے چوما ہے اور زبان کو چوسا ہے اس عظمت وجلال اور توقیرو تکریم کا لحاظ رکھتے ہوئے یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیئے کہ خلافت راشدہ کا دور ختم ہوچکا تھا اب امارات کادور چل رہا تھا۔
پس اگر ان دو امور کا حل شیعی اعتراض کے جواب میں کرنا ہے تو کوئی مشکل نہیں کیونکہ جو لوگ امارت کی عمارت وراثت کی بنیادوں میں استوار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کوئی امام اس وقت تک عالم جاودانی کی طرف تشریف نہیں لے جاتا جب تک اپنے مقام پر اپنی اولاد میں سے یا نسب میں سے کسی کو منتخب نہ کرجائے اسی بنا پر حضر ت علیؓ نے اپنے بڑے بیٹے کو منتخب فرمایا اور انہوں نے بھائی کو اورا نہوں نے اپنے بڑے بیٹے کو علی ہذا القیاس قیامت تک یہی سلسلہ جاری رہے گا اور اسی بنا پر انہوں نے امامت کو امام مہدی کے لئے ریزرو کیا ہوا ہے ان کو کیا حق حاصل ہے کہ وہ سیدنا معاویہؓ کے اس انتخاب پر طعن کریں کہ بیٹے کو نامزد کیوں کرگئے؟
اور اگر بنظر اہل سنت تحقیق مقصود ہے تو کسی سنی مسلمان کو حضرت معاویہؓ پرنہ طعن کرنے کا حق ہے اور نہ بدگمانی کا۔
ان کے نزدیک بدلے ہوئے حالات کا صحیح حل یہ تھا کہ کسی کو اپنی زندگی میں بادشاہ نامزد کرجائیں تاکہ اس انتخاب کے سلسلے میں جمل وصفین میں بہت بڑی خونریزی کے بعد دنیا پھر قتل وقتال پر آمادہ نہ ہوجائے اور ممالک عربیہ پھر نئے سرے سے جنگ وجدال کی آماجگاہ نہ بن جائے اور جسے وہ بادشاہ بنائیں اسے ضروری ہدایات بھی کرجائیں
اور یزید بھی اگر اعمال واحوال میں سدھر نا چاہتا تو سدھر سکتا تھا جبکہ اسے ایک اسلامی ریاست کا تاجدار بنادیا گیا تھا ،مگر افسوس کہ کما حقہ حضرت امیر معاویہؓ کا خواب یزید کے حق میں شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا اور یزید کے عہد میں وہ جو روستم اور ظلم وعدوان کا مظاہرہ ہوا جسے نہ چشم فلک بھول سکتا ہے اور نہ سطح زمین ۔
نبوی گلستان کے پھولوں کو جس طرح مسلا گیا اور ان کے پاک وجود وں کو جس طرح پامال کیا گیا اور ان کے سرکو جس بے دردی سے جدا کیا گیا اور ابن زیادکے دربار میں جلب منفعت اور طمع نفسانی کی خاطر پیش کیا گیا اور اس مردود نے جس انداز سے ان دانتوں پر لکڑی کی نوک لگائی جن پر کسی زمانے میں محبوب خدا کے لب لگے تھے خلفاء اربعہ نے بوسے دیئے تھے اس کی مثال اس رتبے کے لحاظ سے ملنا مشکل ہے۔
بہرحال عترت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اہل سنت کے ایمان کا جز ہے دعا ہے کہ خدا تعالیٰ ہم سب کو قیامت کے دن صحابہ کرامؓ اور اہل بیت عظام اور عترت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام میں بنا کر اٹھائے ۔آمین
سیدنا معاویہؓ کی وفات اور یزید کا تقرر:۔
مؤرخ طبری تاریخ الامم والملوک جلد ۴ صفحہ ۲۵۷ میں لکھتے ہیں
حدثنی یحییٰ زکریا ابن یحییٰ الفرید قال حدثنا احمد بن جناب المصیصی ویکنی ابا الولید قال حدثنا خالدبن یزید ابن سد بن عبداللہ القسری قال حدثنا عمار الدھنی قال قلت لا بی جعفر حدثنی بمقتل الحیسن حتی کانی حضرتہ قال مات معاویۃ والولید بن عتبتہ بن ابی سفیان علی المدینۃ فارسل الی الحسین بن علی لیا خذ بیعتہ فقال لہ اخرنی وارفق فاخرہ فخرج الی مکہ فاتاہ اہل الکوفۃ ورسلہم انا قد حبسنا انفسنا علیک ولسنا نحضر الجمعۃ مع الوالی فاقدم علینا۔
یحییٰ کہتے ہیں مجھے احمد نے روایت کی ہے اور احمد کو خالد نے اور خالد کو عمار نے اور عمار کہتے ہیں کہ میں نے محمد باقر سے عرض کیا مجھے واقعہ شہادت ایسا بتایئے کہ گویا میں وہیں تھا انہوں نے فرمایا ،حضرت معاویہؓ نے وفات پائی تو ولید مدینے کا والی تھا اس نے حسین کی طرف بھیجا تاکہ یزید کے حق میں بیعت لے آپ نے فرمایا میرے ساتھ نرمی برتئے اور سوچنے کے لئے مہلت دے دیجئے پس آپ مکہ کو تشریف لے گئے اور وہاں سے کوفہ والوں کے فرستادے اور خطوط آئے کہ ہم ابھی تک آپ کی انتظار میں ہیں ہم والی کوفہ کے پاس جمعہ اد اکرنے کے لئے نہیں جاتے پس آپ ہمارے پاس آیئے
اس کی تشریح شیعی عبارتوں کی روشنی میں ملاحظہ فرمایئے
شیعی مورخ ملا باقر مجلسی جلاء العیون صفحہ ۳۴۹میں لکھتا ہے کہ سیدنا حسینؓ نے فرمایا کہ اے ولید کیا تو علانیہ بیعت چاہتا ہے اس نے کہاں ہاں آپ نے فرمایا مجھے اس وقت مہلت دیجئے کل میں آپ کے ساتھ اس سلسلہ میں مناظرہ کروں گا۔
ہریک آزما داو کہ بخلافت سزوار تر باشد دیگری بااوبیعت نماید ،ولید گفت برو خدابا تو ہمراہ تادرمجمع مردم تراملاقات نمایم ۔
جو بھی ہم میں سے خلافت کے لائق ہو دوسرا اس کی بیعت کرلے گا ولید نے کہا جایئے خداآپ کا امدادی ہو میں آپ سے مجمع میں ملاقات کروں گا ۔
فائدہ :۔اہل تشیع نے یہ تسلیم کرلیا کہ سیدنا حسینؓ خود امیر وقت بننا چاہتے تھے نیز یزید پر ان کے کچھ الزامات تھے اس لئے آپ نے فرمایا کہ۔
مثل من کسے بامثل اوکسے ہرگز بیعت نمیکند (جلاء العیون صفحہ ۳۴۹)
میرے جیسا اس جیسے کے ہاتھ پر ہرگز بیعت نہیں کرے گا
اس کے بعد آپ مدینہ منور ہ کے اہم مزارات پرتشریف لے گئے اور وہاں آخری سلام کرکے واپس تشریف لائے اتنے میں محمد بن حنفیہ سے ملاقات ہوئی محمد ابن حنفیہ نے کہا آپ مجھے اسلئے بھی محبوب ہیں کہ میرے بڑے بھائی ہیں اور اسلئے بھی کہ آپ امام اور پیشواء ہیں جو مقام خداتعالیٰ نے آپ کو دیا ہے مجھے نہیں دیا آپ نوجوانان بہشت کے سردار ہیں میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ یزید کی بیعت سے کنارہ کرجائیں اور کسی بستی میں چلے جائیں اور وہاں سے ملک میں خطوط اور اطلاعات بھیجیں اگر لوگ آپ پر جمع ہوجائیں تو فبہا
وبیعت تر ااختیار نمایند آنچہ مکنون خاطر حقائق مظاہر تست بعمل آوری واگر اطاعت تو نکنندمالک اختیار خود باشی (جلاء العیون صفحہ ۳۵۲)
اگر وہ لوگ تیری بیعت ہوجائیں جو کہ آپ کا منشا ہے تو ٹھیک اور اگر آپ کی اطاعت نہ کریں تو پھر آپ کو اختیار ہے۔
حضرت حسینؓ نے فرمایا پھر میں کہاں جاؤں محمد بن حنفیہ نے عرض کی پھر آپ مکہ معظمہ جایئے اگر وہ آپ کے ساتھ تعاون کریں تو ٹھیک ورنہ آپ یمن چلے جایئے سیدنا حسینؓ نے محمد ابن حنفیہ کے مشورے پر مرحبا کی آواز بلند کی اور فرمایا کہ اب تو میں مکہ مکرمہ کا عزم کرچکا ہوں ۔
مورخہ ۴ شعبان کو سیدنا حسینؓ کی مکہ کوروانگی اور تلقین صبر :۔
جب آپ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تشریف لے جانے لگے تو مخدرات بنی ہاشم بہت غمگین ہوئیں اس وقت آپ نے نہایت ضبط واستقلال کا مظاہرہ فرمایا
شمارا بخدا سو گند بدہم کہ صبر پیش آورید ودست از جزع وبے تابی بروارید (جلاء العیون صفحہ ۳۵۳)
تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ صبر کرنا اور سینہ کوبی اور آہ وفغاں نہ کرنا
بہر حال آپ اپنے خویش واقارب کو داغ فراق دے کر اپنے خاص اہل بیت اپنے ساتھ لے کر مکہ مکرمہ تشریف لے آئے ۔
سید نا حسینؓ مکہ پہنچے تو خط وکتا بت شروع ہوگئی
سلیمان ابن صرد خزاعی کے گھر میں شیعی اجتماع :۔
سیلمان ابن صرد خزاعی نے سب شیعوں کو بلایا اور کہا کہ حضرت حسینؓ مدینہ منور ہ چھوڑ کر مکہ تشریف لا چکے ہیں اگر تم امداد کرسکو تو ان کو یہاں بلالو ،ورنہ خیر، تمام شیعوں نے بیک آواز ہو کر جواب دیا اے سلیمان کیا شیعہ بھی بے وفائی کرسکتا ہے؟
وبدست ارادت بااوبیعت می نمائیم ودربارے اوودفع شراعد ء او جانفشانی ہا بظہورمی رسانیم
اسکے ہاتھ پربیعت کریں گے انکی امداد اوراعدادکے شرکے دفع کرنے اورجان قربان کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے ۔
(جلاء العیون صفحہ ۳۵۶)
سیدنا حسینؓ کے نام متعدد خطوط
پہلا خط
بسم اللہ الرحمن الرحیم ایں نامہ ایست بسوئے حسینؓ ابن علیؓاز جانب سیلمان بن صرد خزاعی ومسیب بن نجیہ ور فاعہ ابن شداد بجلی وحبیب ابن مظاہر وسائر شیعان (جلااء لعیون صفحہ ۳۵۶)
بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ خط ہے حضرت حسینؓ کی طرف سلیمان بن صرد خزاعی او رمسیب اور رفاعہ اور حبیب اور سب شیعوں کی طرف سے ۔
اور خط کا مضمون یہ تھا کہ آپ ضرور تشریف لے آئیے آپ جہاں تشریف لے آئیں گے تو ہم کوفہ کے والی کو فورًا نکال دیں گے
خط کے لے جانے والوں کے نام اور خطوں کی تعداد:۔
نامہ رابا عبداللہ بن مسمع ہمدانی وعبداللہ بن دال بخدمت آنحضرت فرستادند ومبالغہ کردند کہ آن را بانہایت سرعت بخدمت آنحضرت برسانند پس ایشاں دردہم ماہ مبارک رمضان داخل مکہ شدند ونامہ اہل کوفہ رابآں حضرت رسانید ند باز اہل کوفہ بعد از دو روز ارسال آں قاصداں فیس بن مصہر وعبداللہ بن شداد و عمارہ بن عبداللہ رافر ستادندبا صد وپنجا ہ نامہ کہ عظماء اہل کوفہ نوشتہ بودند باز بعد از دو روز ہانی بن ہانی ربیع وسعید ابن عبداللہ رابخدمت آنحضرت روانہ کردندو نوشتہ بسم اللہ الرحمن الرحیم ایں عریضہ ایست بخدمت حسین بن علی ازشیعیان وفدویان ومخلصان (جلاالعیون صفحہ ۳۵۶۔۳۵۷
تاآنکہ دریک روز شش صدنامہ ازاں بانحضرت رسید ،چوں مبالغہ ایشاں از حد گذشت ورسولا ں بسیار نزد آنحضرت جمع شد ندواز دہ ہزار نامہ ازاں ناحیہ باں جناب رسید (جلاء العیون صفحہ ۳۵۷)
شیعوں نے وہ خط عبداللہ بن مسمع اور عبداللہ بن دال کے ہاتھ حضرت حسینؓ کی طرف بھیجا اور تاکید کی کہ یہ خط حضرت حسینؓ کے ہاں جلدی پہنچائیں پس یہ لوگ دسویں تاریخ رمضان مکہ مکرمہ پہنچے اور اہل کوفہ کے خطوط حضرت حسینؓ تک پہنچائے اس کے بعد کوفہ والوں نے دو دن کے بعد قیس اور عبداللہ اور عمارہ کو ڈیڑھ سو خط اہل کوفہ کے سرداروں کے بھیجے اور دو ر وز کے بعد ہانی اور سعید کو خط دے کر بھیجا اور خط لکھنے والوں نے اس مضمون کا خط لکھا بسم اللہ الرحمن الرحیم بخدمت حسینؓ بن علیؓ از طرف شیعیان وفد ویان ومخلصان کوفہ ۔تاآنکہ ایک دن میں چھ سو خط شیعیان کوفہ کی طرف سے آئے جب مبالغہ حدسے گزرگیا اور فرستادے حضرت کے پاس زیادہ جمع ہوئے تو وہاں سے بارہ ہزار خط حضرت حسینؓ کے پاس پہنچے
اس قدر تحقیق کے بعد اب مذکورہ بالاکتاب تاریخ الامم والملوک مصنفہ طبری جلد ۴ صفحہ ۲۸۷ کی عبارت ملاحظہ فرمایئے اور غور سے دیکھئے کہ حضرت مسلم کو سیدنا حسینؓ نے تحقیق کا حکم تو دیا ہے لیکن یہ نہیں فرمایا کہ وہاں جاکر بیعت لینا شروع کردو ہوسکتا تھا کہ بیعت کا سلسلہ اگر شروع نہ کرتے تو یہ حالات رونما نہ ہوتے ۔واللہ اعلم
حقیقت الحال :۔
قال فبعث الحسین الی مسلم بن عقیل فقال لہ سرالی الکوفۃ فانظر ما کتبوا الی فان کان حقا خرجنا الیہم فخرج حتی قدمہا ونزل علی رجل من اہلہا قال لہ ابن عوسجہ قال لما تحدث اہل الکوفۃ بمقدمہ ذہبو الیہ فبایعوہ فبایعہ منہم اثنا عشرالفا
حضرت حسینؓ نے حضرت مسلم بن عقیل کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ کو فے جائیے اور وہاں حالات کا جائز ہ لے کر مجھے مطلع فرمایئے پس اگر سچ ہو تو ہم ان کے پاس جائیں گے پس حضرت مسلم کوفہ چلے گئے اور وہاں ابن عوسجہ کے پاس پہنچے جب اہل کوفہ کو ان کے آنے کی اطلاع ملی تووہ حضرت مسلم کے پاس پہنچے اور بارہ ہزار آدمیوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔
اہل تشیع کی جلاء العیون صفحہ ۳۵۷ او ر تاریخ الامم صفحہ ۲۵۷ دونوں کا اس پر اتفاق ہے حضرت مسلم کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں لوگ نماز پڑھتے اور پروانہ وار قربانی کا دم بھرتے مرج البحرین کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ چالیس ہزار افراد نے امام مسلم کی بیعت کی چونکہ حضرت مسلم نے یہ خبر سیدنا حسینؓ کو دینی تھی ۔۔۔اسلئے
کتب مسلم بن عقیل الی الحسینؓ ابن علی یخبرہ بیعۃ اثنی عشرالفا من اہل الکوفۃ ویا مرہ بالقدوم
(تاریخ الامم جلد ۴ صفحہ ۶۵۹)
حضرت مسلمؓ نے حضرت حسینؓ کی طرف خط لکھا اور اس میں یہ بھی تحریر فرمایا کہ اہل کوفہ میں سے بارہ ہزار نے میرے ہاتھ پر بیعت کرلی ہے لہذا آپ آنے میں دیر نہ فرمایئے۔
خط بھیجنے کی خبر ہرہر گھر میں پہنچ گئی شیعیان کوفہ حضرت حسینؓ کی آمد کے بے حد منتظرتھے ۔
شیعیان حسینؓ کی چہل پہل اور محبین یزید کے پیٹ میں درد :۔
فقام رجل ممن یہوی یزید ابن معاویہ الی النعمان ابن بشیر فقال لہ انک ضعیف ضعیف او متضعف قد فسد البلاد ۔ (تاریخ الامم جلد ۴ صفحہ ۲۵۷)
پس یزید کے ہوا خواہوں میں سے ایک جوان نعمان ابن بشیر کی طرف آیا اور کہا تو یا تو ضعیف ہے اور یا ضعیف بنا دیا گیا ہے شہر تباہ ہورہے ہیں اور تو مست ہوکر بیٹھا ہے۔
نعمان بن بشیر کا جواب :۔
ان اکون ضعیفا وانافی طاعۃ اللہ احب الی من ان اکون قویافی معصیۃ اللہ وما کنت لاہتک سراسرہ اللہ۔
خدا تعالیٰ کی اطاعت میں مجھے ضعیف ہونا زیادہ محبوب ہے اس سے کہ خدا کی معصیت میں قوی ہوجاؤں مجھ سے اس پردے کی ہتک نہیں ہوسکتی جسے اللہ تعالیٰ نے ڈھانپ لیا ہے اریخ الامم ص ۳۵۷)
جاسوس نے یزید کو خبردے دی:۔
یزید کو جب معلوم ہوا کہ والی کوفہ نعمان محبت اہل بیت کی وجہ سے سستی کررہا ہے اور مسلم بن عقیل کا سکہ اہالیان کو فہ کے دلوں میں بیٹھ چکا ہے ادھر مسلم نے حسینؓ بن علیؓ کوبھی تاکیدی خط لکھ دیا ہے وہ اگر آگیا تو قوم ساری کی ساری ان کے ساتھ ہوجائے گی تو میری عزت میں فرق آجائے گا۔
پس اس نے اپنے مشیر سرجون کو بلایا اور یہ سارا ماجرا سنایا ،سرجون نے کہا کہ واقعی نعمان وہاں کے لائق نہیں ہے اگر عبیداللہ بن زیادکو کوفے کاو الی مقرر کردیا جائے تو وہ قوم کو اپنے کنٹرول میں لے لے گا
وکان یزید ساخطا وکان ہم بعزلہ عن البصرۃ فکتب الیہ برضاۂ وانہ قدولاہ الکوفۃ مع البصرۃ وکتب الیہ ان یطلب مسلم بن عقیل فیقتلہ ان وجدہ (تاریخ الامم صفحہ ۲۵۸)
یزید ابن زیاد پر ناراض تھا اور اس کے معزول کرنے کا قصد کرچکا تھا پس یزید نے ابن زیاد کو خط لکھا کہ میں نے تجھے بصرے کے ساتھ ساتھ کوفے کا والی بھی بنا دیا ہے اور کام یہ ہے کہ جہاں مسلم بن عقیل کو پائے قتل کردے ۔
ابن زیاد کوفہ میں آیا اور لوگوں نے اسے حسینؓ بن علی تصور کیا :۔
قال فاقبل ابن زیاد حتی قدم الکوفۃ عنلثما ولا یمر علی مجلس من مجالسہم فیسلم الا قالواعلیک السلام یاابن بنت رسول اللہ وہم یظنون انہ الحسین حتی نزل القصر
(تاریخ الامم جلد ۴ صفحہ ۲۵۸)
پس ابن زیاد کوفہ میں آیا اور جس مجلس سے گزرتاتھا اور السلام علیکم کرتا لوگ اسے حسین بن علی سمجھ کر وعلیک السلام یاابن رسول اللہ ؐکہہ کر جواب دیتے تھے حتیٰ کہ وہ شاہی محل میں داخل ہوگیا ۔
ابن زیاد نے پبلک کے جذبے سے اندازہ لگالیا کہ مسلم اور حسینؓ کی محبت ان کے دلوں میں گھر کرچکی ہے اس لئے ایک جاسوس کے ذریعے مسلم بن عقیل کا پتہ نکالا۔
فاعطاہ ثلاثۃ الاف فقال لہ اذہب حتی تسال عن الرجل الذی یبایع لہ اہل الکوفۃ فاعلمہ انک رجل من اہل حمص جئت لہذاالامرو ہذا مال تد فعہ الیہ لیتقوی فلم یزل یتلطف ویرفق بہ حتی دل علی شیخ من اہل الکوفۃ بلی البیعۃ فلقیہ واخبرہ فقال لہ الشیخ لقد سرنی لقاء ک ایای وقد ساء نی فاماما سرنی من ذالک فما ہداک اللہ لہ واما ما ساء لی فان امرنا لم یستحکم بعد فادخلہ الیہ فاخذمنہ المال وبایعہ ورجع الی عبداللہ بن زیاد فاخبر ہ

پس اسے تین ہزار درہم دیئے اورکہا کہ جااور مسلمؓ کی خبر لے جس کی اہل کوفہ بیعت کررہے ہیں ان کو یہ کہہ دے کہ میں حمص سے بیعت کے لئے آیا ہوں اور یہ مال حضرت مسلمؓ کی خدمت میں پیش کرنا ہے پس ہمیشہ نرمی اور خوش خلقی سے پیش آیا ،حتی کہ اس شیخ کے پاس آیا جس کے ذریعے سے بیعت ہوتی تھی پس جاکر شیخ سے ملا اور خبر دی پس شیخ نے کہا کہ آپ کی ملاقا ت سے تو مجھے خوشی ہوئی لیکن ایک طریقہ سے غمگینی بھی ہوئی خوشی تو یہ خداتعالیٰ نے تجھے ہدایت بخشی اور غمی یہ کہ ابھی تک ہمارا کام مستحکم نہیں ہوا ۔پس اس سے مال لیا اور حضرت کی بیعت کرادیا وہ یہ کہ جاسوسی کرکے ابن زیاد کے پاس پہنچا اور اسے جاکر خبر دی ۔ (تاریخ الامم جلد ۲ صفحہ ۲۵۸)
حضرت مسلمؓ بن عقیل اسی دن ہانی ابن عروہ کے گھر تشریف لائے۔
عبیداللہ ابن زیاد نے ہانیؓ بن عروہ کو طلب کرلیا :۔
جب اس کو حقیقت حال سے آگاہی ہوئی توایک دن سب کے ساتھ ملاقات کرنے کے بعد دربار میں ہانی بن عروہ کے نہ آنے کی وجہ پوچھی اس بنا پر اشعت ہانی کے دروازے پر گیا اور کہا ۔
ان الامیر قدذکرک واستبطاک فانطلق الیہ فلم یزالوابہ حتی رکب وسار حتی دخل علی عبیداللہ وعند ہ شریح القاضی فلما نظر الیہ قال یاہانی این مسلم؟
(تاریخ الامم جلد ۴ صفحہ ۲۵۹)
امیر ابن زیاد نے تجھے یا دکیا ہے اور تیری غیر حاضری کو برا محسوس کیا ہے اور دیری کی وجہ پوچھی ہے پس جب ہانیؓ نے یہ سنا تو گھوڑے پر سوار ہوااور عبیداللہ بن زیادکے دربار میں پہنچ گیا وہاں قاضی شریح بھی بیٹھا تھا جب ابن زیادنے ہانی کو دیکھا تو پوچھا مسلم کہاں ہے ؟
ہانی ابن عروہ نے لاعلمی کا اظہار کیا تو عبیداللہ نے اس جاسوس کو سامنے کیا جب ہانیؓ نے اس مکار زمن کو دیکھا تو جواب دیا
اصلح الا میر واللہ مادعوتہ الی منزلی ولکنہ جاء فطرح نفسہ علی۔ (تاریخ الامم جلد ۴ صفحہ ۲۵۹)
خداتعالیٰ امیر کو نیک بنائے خداکی قسم حضرت مسلم کو میں نے بلایا تو ہے نہیں لیکن وہ خودبخود آئے ہیں ۔
ہانیؓ سے عبیداللہ بن زیاد کا مطالبہ :۔
عبیداللہ بن زیاد نے کہا کہ لاؤ مسلم بن عقیل کو میرے سپرد کردو ہانی نے انکار کردیا اور کہا کہ ۔
مال مانگو تو مال دیں گے جان مانگو تو جان دیں گے
مگر یہ ہم سے نہ ہوسکے گا نبی کا جاہ وجلال دیں گے
میں ایک بوڑھا صحابی ہوں مجھے حضرت رسول کریم ﷺ کا خیال آیا ہے میری جان چلی جائے تو چلی جائے مگر میں حضرت مسلم کا ناخن بھی نہیں دکھا سکتا ۔
ابن زیاد نے جلاد کو کہا کہ اسے ایک ہزار کوڑے لگاؤ جب پانچ سو کوڑے لگائے گئے تو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم بے ہوش کر گر پڑا آخر الامر شہید کردیا گیا۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
سید نا مسلمؓ کو ہانی ابن عروہ کی تکلیف کا پتہ چل گیا :۔
فنادی بشعاءۃ فاجتمع الیہ اربعۃ الاف من اہل الکوفۃ پس حضرت مسلم نے اپنی جماعت کو بلایا آپ کے پاس چار ہزار کوفیوں میں سے جمع ہوگئے۔ (تاریخ الامم جلد ۴ صفحہ ۲۶۰)
آپؓ نے جنگ کا پورا نقشہ بنا کر دارالامارت کو گھیر لیا عبیداللہ ابن زیاد نے جب یہ رنگ دیکھا تو اس کے طوطے اڑگئے اب عبیداللہ نے کوفے کے رؤسا کی طرف آدمی بھیجے اور ان کو کہا کہ دارالامارۃ پر چڑھ کر لوگوں کو ڈرائیں۔
پس بحکم ابن زیاد،محبت کے داعی رؤساء کوفہ جنہوں نے ہزار خطوط لکھے تھے ، دارالامارت پر چڑھ گئے اور لوگوں سے کہا کہ یزید بڑا سخت آدمی ہے تمہیں پیس کر رکھ دے گا تمہیں چاہیئے کہ ابن عقیل کا ساتھ چھوڑ دو ۔
نتیجہ یہ نکلا کہ شام تک پانچ سو باقی رہے جب اندھیرا ہوا تو تیس باقی رہے مسجد سے باہر نکلے تو سب شیعہ بھاگ گئے ۔
فلما رای مسلم انہ قد بقی وحدہ یتردد فی الطرق حتی اتی بابا فنزل علیہ فخرجت الیہ امرۃ فقال لہا اسقنی فسقتہ ثم دخلت فمکثت ماشاء اللہ ثم خرجت فاذاہوعلی الباب قالت یا عبداللہ ان مجلسک مجلس ریبۃ فقم فقال انا مسلم ابن عقیل فہل عندک ماوی؟ قالت نعم ودخل ۔
(تاریخ الامم صفحہ ۲۶۰ جلد ۴)
پس مسلم نے دیکھا کہ میں اکیلا رہ گیا ہوں تو گلیوں میں ادھر ادھر جانے لگا حتی کہ ایک دروازے پر آکر بیٹھ گئے پس ایک عورت گھر سے نکلی حضرت مظلوم نے پانی مانگاوہ پانی لے آئی اور پلا کر اندرچلی گئی تھوڑی دیر کے بعد باہر آئی تو حضرت وہیں کے وہیں بیٹھے ہوئے تھے اس نے کہا اے خدا کا بندہ تیری نشست مشکوک نظر آرہی ہے آپ تشریف لے جایئے آپ نے فرمایا میرانام مسلم بن عقیل ہے بے وطن ہوں کیا تیرے پاس میرے رہنے کی جگہ ملے گی؟ اس نے کہاں ہاں اور آپ اندر چلے گئے ۔
مسافر ہوں ،سید ہوں ،آوارہ وطن ہوں ،غریق قلزم رنج ومحن ہوں ،اس عورت کا بیٹا محمد اشعت کا خادم تھا جب اسے پتہ چلا تو اس نے محمد کو بتا دیا اور محمد ابن اشعت نے عبیداللہ تک خبر پہنچادی اس نے عمر وبن حریث کو محمد ابن اشعت اور تین سو سواروں سمیت روانہ کیا جب فوج نے طوعہ کے مکان کو گھیرلیا تو حضرت مسلمؓ نے نماز سے فراغت کے بعد نقارے اور گھوڑوں کی ٹاپ کی آواز سنی ۔
فلما رای مسلم خرج الیہم بسیفہ فقاتلہم فاقبل علیہ محمد ابن الاشعت فقال یافتی لک الامان لا تقتل نفسک (تاریخ الامم جلد ۴ صفحہ ۲۸۰)
پس جب مسلمؓ نے دیکھا تو تلوار لے کر باہر نکلے پس ان سے جنگ کی جب بہادری کے جوہر دشمنوں نے دیکھے تو کہا محمد ابن اشعت نے تیرے لئے امان ہے تو اپنے نفس کو قتل نہ کر ۔
حضرتؓ نے جس پر وار کیا پوراکیا یاماراگیا یا حدسے زیادہ زخمی ہوا جدھر منہ کرتے صفایا کردیتے ،ظالموں کے مقابلے کی تاب نہ رہی ،مکانوں پر چڑھ کر تیروں کے وار کرنے لگے ،ایک ظالم کا پتھر پیشانی پر ایسا لگا کہ خون فوارے کی طرح نکلنا شروع ہوا تمام چہرہ لہولہان ہوگیا ،غش تک نوبت پہنچ گئی ،مگر ضبط کرگئے
فلما عجز القتال فاسندظہر ہ الی جنب تلک الدار فاتی بنعبۃ فحمل علیہا واجتمعواحولہ وانتزعوا سیفہ من عنقہ فکانہ اٰئس من نفسہ فدمعت عیناہ ثم قال ہذااول الغدر قال محمد ابن الاشعت ارجوان لا یکون علیک باس قال ماہو الا الرجاء این امانکم انا للہ وانا الیہ راجعون
جب لڑائی سے عاجز ہوگئے تو دیوار کے ساتھ پشت کی ٹیک لگا کر بیٹھ گئے آپ کو ایک خچر پر سوار کیا گیا کوفی شیعوں نے ان کی گردن سے تلوار کھینچ لی پس آپ اپنی زندگی سے ناامید ہوگئے اور رونے لگے پھر فرمایا یہ پہلا دھوکا ہے تو محمد ابن اشعت نے کہا مجھے امید ہے کہ آپ کو کوئی کچھ نہیں کہے گا آپ نے فرمایا بس یہ امید ہی ہے ،کہاں تمہاری امان ؟انا اللہ وانا الیہ راجعون ۔
فائدہ :۔
حضرت مسلمؓ بن عقیل کو بلانے والے کون تھے؟
خط کن لوگوں نے لکھا تھا؟
دستخطوں میں وہ اپنے کو کس مذہب سے منسوب کرتے تھے ؟
بعدہ بیعت کرنے والے کون تھے؟
ابن زیاد باہر سے کوئی فوج لے کر آیا ہی نہیں تھا آخر کن لوگوں نے اسکا ساتھ دیاتھا؟
حضرت مسلمؓ کو تن تنہا کون لوگ چھوڑ گئے ؟
اس کا جواب مذکورہ خط وکتابت کی روشنی میں خود سوچ لیں؟
مظلوم مسلمؓ، ابن زیاد کے دربار میں :۔
نہ قاصدے نہ صبائے نہ مرغ نامہ برے
کسے زبے خبری مانمے برد خبرے
کس حال میں پیش کیا گیا ،بکر ابن عمران کے وار کی وجہ سے آپ کااوپر والا ہونٹ کٹ گیا تھا شدت پیاس کی وجہ سے گلا خشک ہوگیا تھا جب ابن عقیل پیش ہوئے تو آپ نے ابن زیاد کو سلام نہ کیا ۔چوکیدار نے کہا کیا آپ امیرکو سلام نہیں کرتے ؟۔۔۔فرمایا
ان کان یرید قتلی فما سلامی علیہ وان کان لا یرید قتلی فلعمری لکثیر ۃ سلامی علیہ فقال لہ ابن زیادلعمری لتقتلن قال کذالک قال نعم قال فدعنی فاوص الی بعض قومی۔ (تاریخ الامم طبری جلد ۴ صفحہ ۲۸۱)
اگر ابن زیاد میرے قتل کا ارادہ رکھتا ہے تو میر اسلام اس پر نہیں ہے اور اگر میرے قتل کا ارادہ نہیں رکھتا تو بہت سلام ہوں گے اس پر ،پس ابن زیاد نے کہا ضرور تجھے قتل کردیا جائے گا مسلم ابن عقیل نے کہا ، اسی طرح ،کہنے لگا ہاں۔ ابن عقیل نے کہا مجھے چھوڑ دو ،تاکہ میں قوم کے بعض افراد کو وصیت کرلوں ۔
حضرت مسلمؓ بن عقیل کی وصیتیں :۔
آپؓ نے عمر وبن سعد کی طرف رخ کیا اور فرمایا ،میری اور تیر ی رشتہ داری ہے مجھے تیرے تک کام ہے تجھے چاہیئے کہ میری وصیتیں پوری کردے
(۱)۔۔۔ایک تو میں نے شہر کوفہ میں سات سو درہم قرض لیا تھا وہ ادا کردینا ۔
(۲)۔۔۔میرے کپڑے پھٹ چکے ہیں کہیں مجھے بغیر کپڑوں کے قتل نہ کردیا جائے ۔
(۳)۔۔۔میرابھائی حضرت حسینؓ روانہ ہوچکا ہوگا کسی آدمی کو بھیج کر ان کو واپس کردیا جائے اور ان کو بتا دیا جائے کہ تیرا فرستادہ اس قدر بے دردی اور بے رحمی سے قتل کردیا گیا ہے اگر ہوسکے تو میرا رنگین پیرہن نشانی کے طور پر حضرت حسینؓ تک پہنچادینا۔
ابن زیاد نے کہا
اصعد وابہ فوق القصرواضربو ا عنقہ
(تاریخ الامم جلد ۴ صفحہ ۲۸۱)
اسے قصر (محل )پر لے جاؤ او راسے قتل کردو
شہاد ت مسلم بن عقیل :۔
خدابرا کرے نفسانی طمع اور نشہ امارت کا کہ کس ہستی کو انہوں نے قتل کرنا چاہا ،سچ ہے کہ کوئی گورنمنٹ متوازی اسٹیج برداشت نہیں کرسکتی خواہ مقابلے میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا عزیز سے عزیز ترین ہی کیوں نہ ہو ۔
بحکم ابن زیاد پہلی مرتبہ حملہ بکران بن عمران کے بیٹے نے کیا لیکن اس کا ہاتھ خشک ہوگیا ،اس کے بعد دوسرے نے حملہ کیا لیکن اس کا کلیجہ پھٹ گیا اور وہیں گر کر مر گیا آخر کار ابن زیادنے ایک شامی کو بھیجا جس نے آپؓ کوشہید کردیا۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
مکہ مکرمہ میں خط پہنچا اور سیدنا حسینؓ نے سفر کا ارادہ کرلیا :۔
جب اہالیان مکہ کو آپ کے عراق جانے کا علم ہوا تو کافی لوگ حضرت حسینؓ کو روکنے کے لئے آئے کہ آپ ادھر تشریف نہ لے جایئے وہ لوگ بے وفا ہیں بعض حضرات کے مشورے ملاحظہ فرمایئے ۔
عمر بن عبدالرحمن بن حارث مخزومی کا مشورہ :۔
قدبلغنی انک ترید المسیر الی العراق وانی مشفک علیک من مسیرک انک تاتی بلدا فیہ عمالہ وامراء ہ ومعہم بیوت الاموال وانما الناس عبید لہذا لدرہم والدنیار ولا آمن علیک۔ (طبری صفحہ ۲۸۶جلد ۴)
مجھے معلوم ہوا ہے کہ توعراق کی طرف جانے کا ارادہ کررہا ہے اور مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ آپ ایسے شہرمیں جارہے ہیں جس میں یزید کے عمال اور امیر رہتے ہیں اور بیت المال بھی ہیں اور لوگ دنیا پرست ہیں اورمیں آپ پر بے غم نہیں ہوں۔
سید نا حسینؓ کا جواب:۔
مہما یقض من امریکن اخذت برایک اوترکتہ فانت عندی احمد مشیروانصح ناصح (طبری ج ۴ ص۲۸۶)
جو ہونا ہے ہوگا اب میں آپ کا مشورہ قبول کروں یا چھوڑوں ،پس تو میرے نزدیک بہترین مشیر اور ناصح ہے ۔
حضرت ابن عباسؓ کا مشورہ:۔
فانہم انما دعوک الی الحرب والقتال ولا امن علیک ان یکذبوک ویخالفوک و یخذ لوک فقال لہ حسین و انی استخیراللہ وانظر مایکون (تاریخ طبری ج۴ ص ۲۸۶)
بلاشبہ انہوں نے آپ کو جنگ وقتال کی طرف بلایا ہے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ آپ کی تکذیب اور مخالفت نہ کریں اور آپ کو بے عزت نہ کریں حضرت حسینؓ نے فرمایا میں استخارہ کروں گا اور دیکھوں گا کہ کیا ہوتا ہے ۔
حضرت ابن عباسؓ کا دوسرا مشورہ :۔
اتخوف علیک فی ہذا لوجہ الہلاک والا ستیصال ان اہل العراق قوم غدر فلا تقربنہم اقم بہذا البلد فانک سید اہل الحجاز فان کان اہل العراق یرید ولک کماز عموا فاکتب الیہم فلینفوا عدوہم ثم اقدم علیہم فان ابیت الان تخرج فسرالی الیمن فان بہا حصونا وشعوبا
(طبری جلد ۴ صفحہ ۲۸۶)
اس وجہ سے مجھے آپ پر ہلاکت اور تباہی کا خوف ہے یہ عراقی دھوکے باز ہیں ان کے پاس نہ جاؤ یہاں مدینے میں رہ جاؤ آپ اہل حجاز کے سردار ہیں اور اگر اہل عراق کا آپ کے جانے کے متعلق ارادہ ہے جس طرح ان کا دعوی ہے تو ان کو لکھیئے کہ پہلے اپنے دشمن کو اپنے شہر سے نکالیں پھر ان کے پاس جائیے اور اگر آپ نہیں مانتے تو پھر بجائے عراق کے یمن چلے جایئے وہاں بچنے کے بہت سے مقامات ہیں اگر آپ جاتے ہیں تو بال بچوں کو نہ لے جائیے۔
سیدنا حسینؓ کو ابن عباسؓ کا مشورہ :۔
فلا تسربنسا ئک وصبیتک فواللہ ان لخائف ان تقتل کماقتل عثمان ونساؤہ وولد ینظرون الیہ
(طبری جلد ۴ صفحہ ۲۸۷)
آپ اپنی عورتوں اور بچیوں کو ساتھ نہ لے جائیے مجھے خوف ہے کہ کہیں آپ کو حضرت عثمانؓ کی طرح قتل نہ کردیا جائے کہ وہ قتل ہورہے تھے اور ان کی اہل بیت ان کو دیکھتی رہ گئی ۔

ابن عباسؓ کا تشدد آمیز مشورہ :۔
واللہ الذی لاالہ الاہو لو اعلم انک اذا اخذت بشعرک وناصیتک حتی یجتمع علی وعلیک الناس وسلمت لفعلت ذالک۔ (تاریخ طبری جلد ۴ صفحہ ۲۸۷)
خدا کی قسم اگر مجھے یقین ہوتا کہ میں تیرے سر کے بال اور تیری پیشانی پکڑ لوں تاکہ لوگ جمع ہوجائیں اور آپ مان جاتے تو یہ حیلہ بھی میں کرلیتا۔
حضرت ابن زبیرؓ نے بھی منع کیا :۔
مگر افسوس کی سیدنا حسینؓ نے کسی کا مشورہ نہ مانا اور اپنے بال بچوں سمیت روانہ ہوگئے
فرزوق ابن غالب شاعر سے آخری کلام :۔
عن عبداللہ بن سلیم والمذری قال اقبلنا حتی انتہنا الے الصفاح فلقینا الفرزوق فواقف حسینا فقال لہ اعطاک اللہ سولک واملک فیما تحب فقال لہ الحسین بین النا نبأ الناس فقال لہ الفرزوق من الخبیر سألت قلوب الناس معک وسیوفہم مع بنی امیۃ والقضاء ینزل من السماء واللہ یفعل مایشاء فقال لہ الحسین صدقت اللہ الامرواللہ یفعل مایشاء وکل یوم ربنا فی شان ثم حرک الحسین راحلۃ قال السلام علیک۔ (تاریخ طبری جلد نمبر ۴ ص ۲۹۰)
عبداللہ اور مذری کہتے ہیں کہ ہم روانہ ہوئے حتی کہ ہم صفاح تک پہنچے پس ہماری ملاقات فرزوق شاعر سے ہوئی فرزوق نے حضرت حسینؓ کو روک لیا اورکہا خداآپ کا مقصد پورا کرے حضرت حسینؓ نے فرمایا کوفے کے لوگوں کا حال بیان فرمایئے فرزوق نے کہا شکر ہے کہ آپ نے ایک واقف کارسے سوال کیا ہے سنیئے لوگوں کے دل تو آپ کے ساتھ ہیں اور تلواریں یزید کے ساتھ قضاء آسمان سے نازل ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے پس حضرت حسینؓ نے فرمایا آپ نے سچ کہا ہے بلاشبہ سب کچھ خداتعالیٰ کے ہاتھ ہے اور اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے ،یہ کہہ کر حضرت حسینؓ نے سواری کو چلایا اور فرمایا السلام علیکم۔
فائدہ:۔
آج ماہ ذی الحجہ ۶۰ ہجری کی تیسری تاریخ تھی اور اسی دن حضرت مسلمؓ کی شہادت ہوئی
سیدنا حسینؓ کے رضاعی بھائی کی شہادت :۔
جب سیدنا حسینؓ وادی بطن رملہ میں پہنچے تو عبداللہ بن یقطین کو اپنی آمد کی خبر پر ایک مشتمل خط دیا تاکہ کوفہ والوں کو آمد کے اطلاع ہوجائے مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ابن زیاد نے حضرت حسینؓ کی آمد کی خبر سن کر سرحد قادسیہ پر حصین بن نمیر کو کچھ فوج دے کر روانہ کیا اس نے قادسیہ پر قبضہ کرکے چاروں طرف سے ناکہ بندی کرلی اور عبداللہ بن یقطین کو گرفتار کرکے شہید کردیا۔
جب آپ وادی بطن رملہ سے آگے گئے تو عبداللہ بن عمرؓسے ملاقات ہوئی ان سے جدائی کے بعد زبیر بن قیس سے ملاقات ہوئی۔
حضرت مسلم بن عقیلؓ کی خبرشہادت :۔
جب آپ منزل ثعلبیہ میں پہنچے تو بکر اسدی کوفے سے آرہاتھا اس سے سیدنا حسینؓ نے کوفے کے حالات بالخصوص حضرت مسلم بن عقیل کی خبر پوچھی اس نے آبدیدہ ہوکر عرض کیا ،حضرت مسلمؓ تو ۳ ذی الحجہ کو شہید کردیئے گئے ہیں اور تمام شیعہ بے وفائی کرکے فوج یزید میں شامل ہوچکے ہیں ۔
آپ نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا او رخیمے کی طرف چلے آئے
اے حسینؓ واپس چلیئے :۔
ولما کان بالثعلبیۃ جاء ہ مقتل مسلمؓ بن عقیل فقال لہ بعض اصحابہ اللہ الاما رجعت من مکانک فانہ لیس لک بالکوفۃناصرولا ثیقہ بل نتخوف ان یکونوا علیک فوثب بنو عقیل وقالواواللہ لا نبرح حتی ندرک ثارنا اونذوق کما ذاق مسلم ۔محاضرات ۔تاریخ الامم الاسلامیہ شیخ محمد طبری جلد ۴ صفحہ ۱۲۸)
اور جب آپؓ ثعلبیہ کے مقام پر پہنچے تو آپکےؓ پاس حضرت مسلمؓ کی شہادت کی خبر پہنچی تو آپکے بعض احباب نے عرض کیا کہ واپس چلنا چاہیئے آپؓ کا کوفے میں کوئی مدد گار نہیں ہے اور نہ طرف دار ہے بلکہ ہمیں آپکی تکلیف کا خوف ہے پس مسلم بن عقیلؓ کے بھائی اچھلے اور کہنے لگے خدا کی قسم بغیر بدلے یا بغیر شہادت کے ہم نہیں ٹلیں گے۔
آپؓ بنوعقیل کے کہنے پر آگے بڑھے تو موضع زمالہ آگیا ۔آگے بڑھے تو مقام سرات آگیا ۔وہاں حر بن یزید ابن زیاد کی طرف سے سیدنا حسینؓ کو گرفتار کرنے کے لئے ایک ہزار سوار لے کر آپہنچا ۔
حضرت حسینؓ اور حر کی تیز تیز باتیں :۔
قابلتہ خیل عدتہا الف فارس مع الحرابن یزید التمیمی فقال لہم الحسین ایھا الناس انہا معذرۃ الی اللہ والیکم انی لم اتیکم حتی اتنی کتبکم ورسلکم ان اقدم علینا فلیس لنا امام لعل اللہ ان یجعلنا بک علی الہدی فقد جئتکم فان تعطونی مااطمئن الیہ من عہودکم اقدم مصرکم وان لم تفعلواوکنتم بمقد می کارہین انصرفت عنکم الی المکان الذی اقبلنا منہ فلم یجیبوہ بشئی فی ذالک ثم قال لہ الحرانا امرنا اذا نحن تعیناک ان لا نفارقک حتی نقد مک الکوفۃ علی عبیداللہ بن زیاد فقال الحسین الموت ادنٰی الیک من ذالک ثم امراصحابہ فرکبواینصرفو افمنعہم الحرمن ذالک فقال الحسین ثکلتک امک ماترید فقال اماواللہ لوغیرک من العرب یقولہا ما ترکت ذکر امہ بالثکل کائنااماکان ولکن مالی الی ذکرامک من سبیل الاباحسن ما یقدر (محاضرات تاریخ الامم اسلامیہ ج ۲ ص ۱۲۸
حضرت حسینؓ کے آگے حربن یزید ہزار سوار لے کر مقابلے کے لئے آگیا ان کو حضرت حسینؓ نے فرمایا اے لوگوں میری معذرت خدا کی طرف ہے اور تمہاری طرف ہے میں تمہارے پاس بغیر تمہارے خطوں اور فرستادوں کے نہیں آیا تم نے لکھا تھا ،تم ہمارے پاس آؤ ہمارا امام کوئی نہیں ہے شاید ہم کو خداتعالیٰ آپ کے ذریعے سے ہدایت نصیب فرمائے پس اب میں تمہارے پاس پہنچ چکا ہوں اگر تم وعدوں پر سچے ہو تو میں تمہارے شہر آتا ہوں اور اگر تم کو میرا آنا پسند نہیں ہے میں وہاں چلاجاؤں گا جہاں سے آیا ہوں ،اس کا جواب انہوں نے کچھ نہ دیا حرنے کہا ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ کو ابن زیادکے پاس لے جائیں سیدنا حسینؓ نے فرمایا کہ موت تیرے قریب تر ہے اس کے بعد آپ نے جماعت کو حکم دیا سوار ہوکر مڑنے لگے تو حر نے انہیں روک دیا حضرت حسینؓ نے فرمایا تیری ماں تجھ پر روئے تیرا ارادہ کیا ہے؟ حر نے کہا خدا کی قسم اگر عرب میں سے تیرے بغیر کوئی اور یہ کلمہ میرے حق میں کہتا تو میں اس کی ماں کے ذکر کو نہ چھوڑتا اور جو کچھ نتیجہ نکلتا برداشت کرتا لیکن مجھے حیا مانع ہے کہ میں تیری ماں کا ذکر کروں۔
ان دلائل سے روز روشن کی طرح واضح ہورہا ہے کہ برادران یوسف جس طرح یوسف علیہ السلام کو لانے والے اور وہی بے وفائی کرنے والے تھے اسی طرح یہاں بھی سیدنا مسلم اور سیدنا حسینؓ کو یہی لانے والے تھے اور یہی بے وفائی کرنے والے تھے۔
مقام کربلا میں سیدنا حسینؓ پہنچ گئے:۔
آج ۶۱ھ اور دوسری محرم کا دن تھا آپ نے وہاں خیمے گاڑے، اونٹ بٹھائے، گھوڑے باندھے ،ہتھیار کھولے ،آپ نے اپنے اہل بیت کو صبر کی تلقین کی ۔
فائدہ :۔
گذشتہ عبارتوں سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ جب سیدنا حسینؓ کو اکابر صحابہ اور ارباب حل وعقد نے یہاں آنے سے منع کیا تو تب انہوں نے بات نہ مانی تھی اب جب انہوں نے حالات ناگفتہ بہ دیکھ کر واپس جاناچاہا توابن زیاد کی فوج نے نہ جانے دیا عقید ت کے پیش نظر اس کے بغیر کوئی چارہ کا رنہیں کہ سیدنا حسینؓ کوفیوں کے مجبور کرنے پر یہاں آنے کا اپنی پاک زبان سے وعدہ فرماچکے تھے حضرت حسینؓ سارا نقصان برداشت کرسکتے تھے لیکن نقض عہد نہیں فرماسکتے تھے ۔
نیز آپ کو یہ خیال بھی تھا کہ جب میں جاؤں گا اور ان کے خطوط دکھاؤں گا تو وہ نادم ہوکر میرے زیر سایہ آجائیں گے۔
یہ توتصور ہی نہ تھا کہ وہ بظاہر مدعی محبت ہیں اور بباطن اعداء حسینؓ ہیں بہرحال ساتویں محرم کو ابن سعد کی فوج جو تقریبا بیاسی ہزار پیادے پر مشتمل تھی تشدد پر اتر آئی آٹھویں اورنویں وہاں گزاری۔
دسویں محرم اور سیدنا حسینؓ کا اظہار حقیقت :۔
لعنت برشماد وبرار ادت شماباد اے بیوفا یان جفا کار غدار ومارادر ہنگام اضطر ار بمددویاری خود طلبیدید چوں اجابت شما کردیم وبہدایت ونصرت شما آمد یم شمشیر کینہ وبروئے ما کشدید ودشمنان خودر ابرمایاری گرداید وازدوستان خدادست برداشتید قبیح بادر وہائے شما ای گمراہان امت وترک کنند گان کتاب ومتفرقان احزاب وپیروان شیطان وترک کنندگان خیر الانام ۔(جلاء العیون صفحہ ۳۹۱)
ہمیشہ تم پراور تمہاری عقیدت پر لعنت ہواے بے وفاؤظالمو ، غدارو، دھوکے بازو ،پریشانی کے وقت تم نے مدد کے لئے ہمیں بلایا جب ہم آئے تو تم نے کینے کی تلوار ہمارے منہ پر کھینچ لی اور اپنے دشمنوں کی امداد کرنا شروع کردی اور خدا کے دوستوں سے تم نے ہاتھ اٹھالیا خدا تمہارے منہ خراب کرے اے امت کے گمراہو اور قرآن کو چھوڑنے والو اور شیطان کے پیروکارو اور خیرالانام کے چھوڑنے والو
جب یہ ملامت شیعیان کوفہ کے سامنے کار گر ثابت نہ ہوئی تو اب لگی جنگ چھڑنے
وفی عاشر المحرم ۶۱ھ انتسب القتال بین ہاتین الفئتین جیش العراق الذی لم یکن فیہ احد من اہل الشام وہذہ الفءۃ القلیلۃ ومن معہ وہم لا یزیدون ع۸۰ رجلا
(محاضرات جلد ۲ صحہ ۱۲۹)
محرم کی دسویں تاریخ ۶۱ھ کو دو جماعتوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی عراق کے لشکر میں شامی ایک بھی نہ تھا اور مقابلے میں جماعت تھوڑی تھی اوروہ بھی اسی آدمیوں سے زیادہ نہ ہوں گے۔
اجمالی طور پر اتنا قدر ذہن میں رکھ لیجئے کہ ابن سعد کی فوج سے اٹھاسی جوان قتل ہوئے اور سیدنا حسینؓ کے لشکرسے ۷۲جوان شہید ہوئے (محاضرات جلد ۲ صفحہ ۱۲۹)
اور جب حضرت حسینؓ بھی شہید ہوگئے اور ان کا سر یزید کے پاس لایا گیا تو وہ زارو قطار رونے لگا اس کے گھر میں کہرام مچ گیا۔ یزید نے کہا
کنت ارضی عن طاعتکم بدون قتل الحسین لعن اللہ ابن سمیہ اماواللہ لوانی صاحبہ لعفوت عنہ
میں تو حضرت حسینؓ کے قتل کئے بغیر بھی تم پر راضی ہوجاتا خدا لعنت کرے ابن سمیہ کو ،خدا کی قسم اگر میں حسینؓ کے پاس ہوتا تو اسے معاف کردیتا ۔(محاضرات جلد ۲ صفحہ ۱۲۹)
اجمال کی تفصیل:۔
عترت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے میدان میں سب سے پہلے عبداللہ بن مسلمؓ آئے حضرت حسینؓ نے کئی مرتبہ روکا مگر نہ رکے اور میدان میں لڑکر شہیدہوگئے۔ ان کے بعد حضرت مسلمؓ کے تینوں بھائی عبداللہ بن عقیل ،عبدالرحمن بن عقیل ،جعفر بن عقیل شہید ہوگئے ۔
ان کے بعد عبداللہ بن حسن بااجازت حضرت حسینؓ میدان میں آئے بہادری کے جوہر دکھائے اوران کی امدا د کیلئے فیروز آئے انہوں ایسے وار کئے کہ ایک سو تیس کو تیروں سے ہلاک کیا اور بیس کو شمشیر سے ۔آخر کا رلڑتے لڑتے فیروز بھی شہید ہوگیا اور عبداللہ بن حسن بھی ان کے بعد ابوبکر ابن الحسن اور عمر بن الحسن میدان میں آئے اور شہید ہوگئے۔
حضرت قاسم بن حسنؓاور شامی پہلوان کا مقابلہ :۔
حضرت قاسمؓ حضرت حسنؓکے چوتھے صاحبزادے ہیں آپ باذن سیدنا حسینؓ گھوڑے پر سوار ہوئے اور ایسا حملہ کیا کہ دشمنوں کے ہوش اڑگئے
بہادر نامور جو جو مقابل ہوکے آتے تھے
وہ اپنا ہاتھ اپنی زندگی سے دھوکے جاتے تھے
ارزاق نامی پہلوان حضرت قاسمؓ کا مقابلہ نہ کرنا چاہتا تھا او ر کہتا تھا کہ میں ایک لڑکے کے سامنے کیسے جاؤں؟ ہاں میں اپنے بیٹے بھیجتا ہوں چنانچہ جو بیٹا بھی آیا قتل کردیا گیا آخر میں ارزق آیا آپ نے اس بہادرپر اس طرح تلوار کا وار کیا کہ تلوار زرہ کاٹ کر پار نکل گئی ۔
گلوں میں بھی نہ اٹکی سینہ کاٹا دل جگر کاٹا
لہوچاٹا جگر کا بند زنجیر کمر کاٹا
گلے کے ہار زنجروں کی لڑیاں کاٹ کر نکلی
زرہ بکتر سے نکلی اور کڑیاں کاٹ کرنکلی
گری جب خاک پر دوٹکڑے ہوکر لاش خود سر کی
دہان شیر سے نکلی صدا اللہ اکبرکی
بہرحال ان نوجوانوں نے دشمنوں کو شکست فاش دی اور خود جام شہادت نوش فرمایا۔
فائدہ :۔
حضرات غور فرمائیں یہ لوگ ہائے کے لائق ہیں یا واہ کے لائق ہیں ان کے بعد محمد بن علیؓ عثمان بن علیؓعبداللہ بن علیؓاور جعفر بن علیؓنے جام شہادت نوش فرمایا اور ان کے بعد حضرت عباسؓ شہید ہوگئے ۔
حضرت علی اکبرؓ کا مقابلہ :۔
حضرت علی اکبر جب میدان میں آئے تو للکار کر فرمایا
میری تلوار کی زد میں نہ آؤاور ہٹ جاؤ
کہیں ایسا نہ ہو تلوار کی تیزی سے کٹ جاؤ
میں فرزند حسینؓ ابن علی ہوں مجھ کو جانتے ہونگے
شجاع ہاشمی ہوں مجھ کو تم پہچانتے ہوں گے
چمکتی دیکھ کر اس نوجوان کی تیغ کی دھاریں
گریں ڈھالیں یکایک چھٹ گئیں ہاتھوں سے تلواریں
عدو کہتے تھے شاید پھر علی المرتضیٰؓ آئے
مقابل آنے والوں کے لئے بن کے قضاء آئے
آخر کاروہ بھی شہید ہوکر اپنے ساتھیوں سے جاملے ۔
آخر میں جب سیدناحسینؓ کی باری آئی توآپ نے سب سے پہلے گھر والوں کو صبر کی تلقین فرمائی ۔زین العابدین نے ہر چند کوشش کی کہ میں بھی بہادری کے جوہر دکھاؤں مگر آپ نے نہ جانے دیا کیونکہ ان کی نسل سے سادات کی نسل قیامت تک رہنی تھی
اب حقیقت تو یہ ہے کہ سید نا زین العابدین صرف ایک راوی ہیں شہادت حسینؓ کے۔ جن کو باہر آنے کی باپ سے اجازت نہ ملی اور باہر وہ ایسے مصروف ہوئے کہ اندر نہ آسکے اور سیدھے جنت میں چلے گئے اور نہ یہاں کوئی راوی موجود تھا جس نے ہم تک خبر پہنچائی ہو ،کہ دشمنوں نے سیدنا حسین پر اس قدر وار کیئے ۔اور اگر راوی کہیں چھپا بیٹھا تھا محض اس لئے کہ میں بچ جاؤں تو یہ واقعات لوگوں میں بیان کرتا رہوں گاتو ایسے راوی کی روایت ناقابل قبول ہے۔
بہرحال سیدنا حسینؓ شہید کئے گئے ظالموں نے جس بیدردی سے شہید کرنا چاہا شہید کیا سرکاٹا،اور اس محبوب رب العالمین کے محبوب کے سر کو ابن زیاد کے دربار میں پیش کیا ،اس بے شرم نے آپ کے لبوں پر لکڑی کی نوک لگائی ۔انا للہ وانا الیہ راجعون
یہ سب کچھ کیوں ہوا؟:۔
محض اس لئے کہ ایفائے عہد کے خلاف نہ ہو ،محض اس لئے کہ چچا زاد بھائی کے ساتھ وفا پوری ہوجائے ۔محض اس لئے کہ جو لوگ اہل بیت کو تقیہ باز سمجھتے ہیں ان کی عملی تردید ہوجائے اور محض اس لئے کہ خلفاء ثلاثہ کی صداقت کی عملی تائید ہوجائے ۔
کیونکہ :۔
سیدنا حسینؓ جسے خلافت کا نااہل سمجھتے تھے اس کے ساتھ جنگ کی اگر خلفاء ثلاثہ ظالم اور نااہل ہوتے تو آج یہ پہلی کربلا نہ ہوتی بلکہ چوتھی کربلا ہوتی۔ خدا تعالیٰ ہم سب کو سیدنا حسینؓ اور جملہ شہدا ء اسلام کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔




پاک اردو انسٹالر

  <center><a target="_blank" href="http://www.mbilalm.com/urdu-installer.php" title="Pak Urdu Installer...