منگل، 14 مارچ، 2017

قضاء نمازیں پڑھنےکاطریقہ qazanmazen

سوال: ایک مسئلے کے متعلق بتائیں کہ بعض عورتیں کہتی ہیں  کسی خاص دن 2 دو رکعت نفل پڑهنے سے جتنی بهی نمازیں قضا ہو ئی ہیں وه سب ادا ہو جائینگی  کیا اس طرح نفل پڑهنے سے هماری تمام قضا نمازیں واقعی ادا ہو جائینگی  اس کا جواب درکار ہے ؟

جواب: یہ  بات درست نہیں  ہے کہ  2 رکعت نفل پڑهنے سے تمام قضاء نمازیں ادا هو جائینگی بلکه تمام قضاء نمازیں ادا کرنی هونگی اس کا پڑهنا واجب هے جو لوگ اس طرح کی باتیں کرتے هیں ان کی بات شریعت کے خلاف هے.
اور نه هی ایسی کوئی صحیح روایت موجود هے جس سے یه ثابت ہو جائے کہ  2 رکعت نفل پڑهنے سے تمام قضا نمازیں ادا هوجائی گی.

* فتاوی محمودیه ج1 *

* قضاء نماز پڑهنے کا طریقه *
=================

قضاء نمازوں کو پڑهنے کا طریقه وهی هے جو ادا نمازورں کا هے.
صرف نیت میں ” قضاء ” نماز کا خیال کرنا هوگا اگر قضاء نمازیں بہت زیاده هیں اور ان کی تعداد بهی معلوم نهیں هے تو اس کا بہتر طریقه یه هے که ایک تعداد اندازے سے مقر ر کرلیں مثلا:

کسی نے دو سال سے نمازیں قضاء کی هو ں یا جس عمر سے نماز فرض هوئی هے اندازے سے معلوم کرے که اتنے سالوں سے نمازوں کی ادائیگی میں کوتاہی  کی ہے .
پهر ہر وقتی نماز کے ساتھ  ایک یا جتنی ہو سکیں قضاء نمازیں بهی اس کے ساتھ  پڑهتے رہیں.

اور ہر  نماز کی قضاء کرتے وقت یه نیت کرلیں کہ اس وقت کی مثلا ظهر کی جتنی نمازیں آپ کے ذمه هیں ان میں سے پہلی قضاء پڑهتا پڑھتی هوں یعنی دل میں اراده کرے کہ ان قضاء نمازوں میں جو پہلی ہے  وه قضاء کر رہا ،کر رہی ہوں
اسی طرح دوباره جب قضاء پڑهیں تو پهر اس وقت کی قضاء نماز مثلا ، عصر ، فجر یا جو بهی هو وه کہ کر اس وقت کی جتنی نمازیں میرے ذمه هیں ان میں سے پہلی قضاء پڑه رهی هوں.
جتنی رکعتیں اصل ادا نماز کی هیں اتنی هی رکعتیں قضاء نماز کی پڑهنی ہیں .

فرض نماز کے علاوه  نماز وتر واجب هے اس کی بهی قضاء پڑهنی ضروری ہے .

سنتوں کی قضاء نهیں صرف نماز فجر کی سنتیں اسی دن میں اشراق کا وقت شروع هونے سے لے کر اسی دن کے زوال تک قضاء پڑه سکتے ہیں  اس دن میں زوال کے بعد وه بهینہیں  ہے .
قضاء نماز هر وقت ادا کرسکتے هیں صرف تین مکروه اوقات کے علاوه باقی جس دن جس وقت چاہیں ادا کرسکتے هیں.

1__ سورج طلوع هونے کے وقت.
2__ عین زوال کے وقت جب سورج بالکل اوپر ہو .
3__ سورج کے غروب ہو نے کے وقت .

* شرح التنویر: ج2 ص76،77 ،66 __ فتاوی عالمگیری: ج1 ص131 *
————————————————————————

حضرت انس بن مالک رضی الله عنه کی روایت هے که فرمایا رسول الله صلی الله علیه وسلم نے:

( من نسی صلاته او نام عنها فکفارتها ان یصلیها اذا ذکرها )
صحیح مسلم: ج1 ص411 )

جو شخص نماز ادا کرنا بهول گیا یا سوگیا تو اس کا کفاره یہ ہے  که یاد آنےپر نماز قضا کرلے.

ایک روایت میں آپ صلی الله علیه وسلم کا یه ارشاد مروی هے.
( اذا رقد احدکم عن الصلوته او غفل عنها فلیصلها اذا ذکرها فان الله یقول ، اوقم الصلوته لذکری….. سوره طه 14 )

اگر تم میں سے کوئی آدمی سوگیا یا نماز ادا کرنا بهول گیا تو یاد آنے پر قضا کر لے کیونکه

الله تعالی کا فرمانہے  ” اور میرے ذکر کے لئے نماز قائم کرو “

لا کفارته لها الا ذلک واقم الصلاته لذکری ……. نهیں کفاره هے مگر یهی  پهر راوی نے دلیل کے طور پر آیت اقم الصلوته لذکری پڑهی.

( صحیح بخاری شریف ، باب من نسی صلوته فلیصل اذا ذکر ص84 نمبر 597 )
ابوداود شریف ، باب فی من نام عن صلوته او نسیها ص70نمبر 435 )
اس حدیث اور آیت سے معلوم هوا که فوت شده نماز پڑهنا فرض ہے …
 قضاء نماز کا فدیه موت کے بعد

ہر نماز کے بدلے صدقہٴ فطر کی مقدار فدیہ ہے صدقہٴ فطر کی مقدار غلہ یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت دینا بھی صحیح ہے۔، اور وتر مستقل نماز ہے، اس لئے ہر دن کے چھ فدیے ہوئے، یہ فدیہ اگر کوئی شخص اپنے مال سے ادا کرے تو ٹھیک ہے، اور اگر مرحومہ کے ترکے میں سے ادا کرنا ہو تو اس کے لئے یہ شرط ہے کہ سب وارث بالغ اور حاضر ہوں اور وہ خوشی سے اس کی اجازت دے دیں۔ یہ اس صورت میں ہے جبکہ مرحوم یا مرحومہ نے فدیہ ادا کرنے کی وصیت نہ کی ہو۔
اگر وصیت کی ہو تو اس کے تہائی ترکہ سے تو وارثوں کی رضامندی کے بغیر فدیہ ادا کیا جائے گا، اور تہائی مال سے زائد فدیہ ہو تو اس کے لئے وہی شرط ہے جو اُوپر لکھی گئی ہے


پیر، 13 مارچ، 2017

سورة اخلاص


کثرت درودشریف

ترجمہ: آپ ﷺ نےفرمایاکہ تمام ایام سے افضل ترین جمعہ کادن ہے اس دن مجھ پر بہت زیادہ درودشریف پڑھاکرو کہ تمہارا درود مجھ پرپیش کیا جاتاہے

 

تشریح: مطلب اس حدیث کا یہ ہیکہ جمعہ وشب جمعہ میں درود ایک خاص انداز سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیاجاتا ہے اور ایک روایت میں ہیکہ جمعہ وشب جمعہ میں اللہ تعالی تمام پردہ ہٹا دیتے ہیں جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود سماعت فرماتے ہیں،

قابل غور:اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ ہرجگہ حاضرناظرنہیں جیساکہ بعض گمراہوں کاعقیدہ ہے،

یہ روایت ابوداؤد اور ریاض الصالحین میں موجودہے  

 

جمعہ، 10 مارچ، 2017

کتاب الله کے بعد سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب "فضائل اعمال"پراعتراض کےجوابات

کتاب اللّٰه کے بعد سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب

کتاب اللہ کے بعد سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب "فضائل اعمال "کے مختلف زبانوں میں تر جمے۔​
 "فضائل اعمال " فضا ئل قران: عربی ۔مترجم: مولانا سید محمد واضح رشید ندوی صاحب ۔
برمی ۔ مترجم : مولانا محمد موسیٰ فاضل مظاہر علوم انگریزی۔ مترجم : سید عز الدین ۔
 بنگالی۔ مترجم
قاضی خلیل الرحمن ۔
فارسی ۔ ،مترجم استاذ محمد اشرف ۔
گجراتی ۔مترجم : سید محمود قاسم...


The most read book after the "virtues actions" in different languages on the firm.
"Virtues do" atmosphere mansions Qur'an: Arabic Translators: Syed Mohammad Rashid Nadvi is clear. Burmese. Translator: Maulana Mohammad Musa Fazil phenomena studies English. Translator: Saeed Khan honor. Bengali. Translate Qazi Khalil. Persian. , Translator, teacher Mohammad Ashraf. Gujarati Translators: Sayed Mahmoud Kassem.


فضائلِ اعمال پر اعتراضات کے جوابات : یو ٹیوب لنکس
الحمدللہ فضائل اعمال کے ابتک کے ۹ اسباق ( ۹ اعتراض کے جوابات ) YouTube پر اپلوڈ کر دیئے گئے ہیں ـ جتنا زیادہ ہو سکے ان اسباق کو شیئر کریں - سبق نمبر 1 حضرت شیخ الحدیث رح کی بیماری پر کئے جانے والے اعتراض کا جواب . https://www.youtube.com/watch?v=aREWLspURQU...

جمعہ، 3 مارچ، 2017

حکیم الامت مولانااشرف علی تھانویؒ

نام:اشرف علی تھانوی
 پیدائش19 اگست 1863 ء
وفات4 جولائی 1943 (عمر 79 سال)
رہائش تھانہ بھون
 قومیت بھارتی (برطانوی ہندنسل ہندوستانی دوردور جدید)
پیشہ عالم دین
مذہب اسلام
تحری کدیوبندی
شعبۂ علم فقہ
 مادر علمی دارالعلوم دیوبند
پیر/شیخ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی
 متاثر عبدالماجد دریا بادی

 ولادت آپ کے والد شیخ عبدالحق ایک مقتدر رئیس صاحب نقد وجائیداد اور ایک کشادہ دست انسان تھے۔فارسی میں اعلٰی استعداد کے مالک اور بہت اچھے  انشاء پرداز تھے۔ اس طرح یہ ایک عالی خاندان تھا جہاں دولت وحشمت اور زہد وتقوی بغل گیر ہوتے تھے۔

 5 ربیع الثانی 1280ھ بمطابق 9ستمبر ، 1863ء تاریخ ولادت ہے۔   والد نے آپ کی تربیت بڑے ہی پیار ومحبت سے کی۔تربیت میں اس بات کو خاص اہمیت دی کہ برے دوستوں اور غلط مجالس سے آپ دور رہے ۔آپ کی طبیعت خود بھی ایسی واقع ہوئی تھی کہ کبھی بازاری لڑکوں کے ساتھ نہیں کھیلے بچپن سے مزاج دینی تھا۔ 12سال کی عمر میں پابندی سے نماز تہجد پڑھنے  لگ گئے تھے۔ تعلیم وتربیت  ابتدائی تعلیم میرٹھ میں ہوئی فارسی کی ابتدائی کتابیں یہیں پڑھیں اور حافظ حسین مرحوم دہلوی سے کلام پاک حفظ کیا پھر تھانہ بھون آکر حضرت مولانا فتح محمد صاحب سے عربی کی ابتدائی اور فارسی کی اکثر کتابیں پڑھیں ذوالقعدہ 1295ھ میں آپ بغرض تحصیل وتکمیل علوم دینیہدارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے اور پانچ سال تک یہاں مشغول تعلیم رہ کر 1301ھ میں فراغت حاصل کی اس وقت آپ کی عمر تقریباً199سال تھی زمانہ طالب علمی میں حضرت میل جول سے الگ تھلگ رہتے اگر کتابوں سے کچھ فرصت ملتی تو اپنے استاد خاص حضرت مولانا محمد یعقوب کی خدمت میں جابیٹھتے۔ درس وتدریس تکمیل تعلیم کے بعد والد اور اساتذہ کرام کی اجازت سے آپ کانپور تشریف لے گئے اور مدرسہ  فیض عام میں پڑھانا شروع کردیا چودہ سال تک وہاں پرفیض کو عام کرتے رہے، 1315ھ میں کانپور  چھوڑکر آپ آبائی وطن تھانہ بھون تشریف لائے اور یہاں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی خانقاہ کو نئے سرے سے آباد کیا اور مدرسہ اشرفیہ کے نام سے ایک درسگاہ کی بنیاد رکھی جہاں آخر دم تک تدریس،تزکیہ نفوس اور اصلاح معاشرہ جیسی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اس مراجعت پر حضرت حاجی صاحب نے آپ کو ایک خط بھیجا جس میں لکھا تھا" بہتر ہوا کہ آپ تھانہ بھون تشریف لے گئے امید ہے کہ خلائق کثیر کو آپ سے فائدہ ظاہری وباطنی ہوگا،اور آپ ہمارے مدرسہ ومسجد کو ازسرنو آباد کریں گے،میں ہر وقت آپ کے حال میں دعا کرتا ہوں" سلوک ومعرفت ظاہری علوم کی تکمیل کے بعددل میں تزکیہ باطن کا داعیہ پیدا ہوا ، چنانچہ شوال 1201ھ میں جب  کہ آپ طالب علمی کی زندگی ختم فرماکر کانپور میں اشاعت علوم میں مصروف تھے۔ سفر حج کی تو فیق ہوئی،حضرت والا اپنے والد ماجد کی معیت میں زیارت حرمین شریفین کے لیے روانہ ہوئے مکہ معظمہ پہنچ کر حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی خدمت میں حاضر ہوئے حاجی صاحب مجدد الملۃ کے آنے سے بہت خوش ہوئے اور دست بدست بیعت کی نعمت سے سرفراز کیا اور فرمایا تم میرے پاس چھ مہینے رہ جاؤلیکن حضرت والد ماجد نے مفارقت کو گوارا نہ کیا۔ اس پر حاجی صاحب نے فرمایا کہ والد کی اطاعت مقدم ہے اس وقت چلے جاؤپھر دیکھا جائے گا،1310ھ میں آپ دوبارہ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور چھ ماہ حاجی صاحب کی خدمت میں رہے۔ اس دوران حاجی صاحب نے آپ کو شرف خلافت سے نوازا اور ساتھ یہ فرمایا میاں اشرف،توکل بخدا تھانہ بھون جاکر بیٹھ جانا اگر سخت حالات  پیش آئیں تو عجلت مت کرنا،ان وصیتوں اور باطنی دولت کو لے کر آپ 1311ھ میں وطن واپس  لوٹ آئے اور حضرت حاجی صاحب کی وصیت کے مطابق تھانہ بھون میں رشد واصلاح باطنی کاکام شروع کردیا۔ ہندوستان کے طول وعرض سے لوگ پروانہ وار آتے رہے اور دین اسلام کا کام کرتے رہے۔ تصانیف آپ کی تصانیف اور رسائل کی تعداد 800 تک ہے ۔ ان میں سے چند ایک کے نام پیش خدمت ہیں۔ تفسیر بیان القرآن ،سلیس بامحاورہ ترجمہ، تفسیر میں روایات صحیحہ اور اکابر کے اقوال کا التزام کیا گیا ہے۔ اعمال قرآنی ،قرآن مجید کی بعض آیتوں کے خواص حقیقۃ الطریقۃ ،سلوک وتصوف کے مسائل وروایات پر مشتمل ایک بےنظیر کتاب احیاء السنن،فقہی ترتیب پر جمع کیے گیے احادیث کا مجموعہ امداد الفتاوی،فقہی مسائل اور مباحث کا ایک نادر مجموعہ الانتباہات المفیدہ ،جدیدتعلیم یافتہ لوگوں کے مذہبی اعتراضات کے جوابات اعلاء السنن ،مذہب حنفی کی موید احادیث ،محدثین اور اہل فن کی تحقیقات کا مجموعہ بہشتی زیور،اسلامی معلومات کا مکمل ذخیرہ المصالح العقلیہ،اسلامی احکام ومسائل کے مصالح وحکم کا بیان جمال القرآن ،اصطلاحات تجوید پر مشتمل ایک عام فہم رسالہ نشر الطیب ،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر مشتمل جامع مانع کتاب وفات اشرف علی تھانوی 83سال 3 ماہ 11 دن کی زندگی گزارنے کے بعد 16 رجب1362ھ بمطابق 20 جولائی، 1943ء کی انتقال کرگئے۔ آپ کی نماز جنازہ ظفر احمد عثمانی نے پڑھائی،تھانہ بھون کے قبرستان میں آپ مدفون ہیں

منزل آیات قرآنی

Mufti Imdadullah 

                                                         منزل

🌴🌴 🌴 سورة

الفاتحة🌴

 بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۞ ١

 اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۱﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۲﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۳﴾ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۴﴾ اِهْدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۵﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾


🌴 سورة البقرة 🌴

 بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیم۞ الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚ ۖ ۛفِیۡہِ ۚ ۛ ھُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۲﴾ۙ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ وَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ۙ﴿۳﴾ وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ وَ بِالۡاٰخِرَۃِ هُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ ؕ﴿۴﴾ اُولٰٓئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنۡ رَّبِّہِمۡ ٭

وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۵﴾


 وَ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحۡمٰنُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۶۳﴾٪

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ اَلۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ۬ ۚ لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوۡمٌ ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِهٖ ؕ یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ ۚ وَ لَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ کُرۡسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ ۚ وَ لَا یَـُٔوۡدُہٗ حِفۡظُہُمَا ۚ وَ ھُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ ﴿۲۵۵﴾ لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ ۟ ۙ قَدۡ تَّبَیَّنَ الرُّشۡدُ مِنَ الۡغَیِّ ۚ فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی ٭ لَا انۡفِصَامَ لَہَا ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۵۶﴾ اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۙ یُخۡرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَوۡلِیٰٓـُٔہُمُ الطَّاغُوۡتُ ۙ یُخۡرِجُوۡنَہُمۡ مِّنَ النُّوۡرِ اِلَی الظُّلُمٰتِ ؕ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ هُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۵۷﴾


 لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ اِنۡ تُبۡدُوۡا مَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ اَوۡ تُخۡفُوۡہُ یُحَاسِبۡکُمۡ بِهِ اللّٰہُ ؕ فَیَغۡفِرُ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۲۸۴﴾


اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡهِ مِنۡ رَّبِّهٖ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ؕ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِکَتِهٖ وَ کُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ ۟ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِهٖ ۟ وَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا ٭۫ غُفۡرَانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیۡکَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۲۸۵﴾ لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا ؕ لَہَا مَا کَسَبَتۡ وَ عَلَیۡہَا مَا اکۡتَسَبَتۡ ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَاۤ اِنۡ نَّسِیۡنَاۤ اَوۡ اَخۡطَاۡنَا ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحۡمِلۡ عَلَیۡنَاۤ اِصۡرًا کَمَا حَمَلۡتَهٗ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِنَا ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ ۚ وَ اعۡفُ عَنَّا ٝ وَ اغۡفِرۡ لَنَا ٝ وَ ارۡحَمۡنَا ٝ اَنۡتَ مَوۡلٰىنَا فَانۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۲۸۶﴾


 شَہِدَ اللّٰهٗ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ وَ الۡمَلٰٓئِکَةُ وَ اُولُوا الۡعِلۡمِ قَآئِمًۢا بِالۡقِسۡطِ ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿ؕ۱۸﴾


 قُلِ اللّٰھُمَّ مٰلِکَ الۡمُلۡکِ تُؤۡتِی الۡمُلۡکَ مَنۡ تَشَآءُ وَ تَنۡزِعُ الۡمُلۡکَ مِمَّنۡ تَشَآءُ ۫ وَ تُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُ ؕ بِیَدِکَ الۡخَیۡرُ ؕ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۲۶﴾ تُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّھَارِ وَ تُوۡلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیۡلِ ۫ وَ تُخۡرِجُ الۡحَیَّ مِنَ الۡمَیِّتِ وَ تُخۡرِجُ الۡمَیِّتَ مِنَ الۡحَیِّ ۫ وَ تَرۡزُقُ مَنۡ تَشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۲۷﴾


 اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰهُ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ فِیۡ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ ۟ یُغۡشِی الَّیۡلَ النَّھَارَ یَطۡلُبُهٗ حَثِیۡثًا ۙ وَّ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ وَ النُّجُوۡمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمۡرِہٖ ؕ اَلَا لَهُ الۡخَلۡقُ وَ الۡاَمۡرُ ؕ تَبٰرَکَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۵۴﴾ اُدۡعُوۡا رَبَّکُمۡ تَضَرُّعًا وَّ خُفۡیَةً ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ ﴿ۚ۵۵﴾ وَ لَا تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِھَا وَ ادۡعُوۡہُ خَوۡفًا وَّ طَمَعًا ؕ اِنَّ رَحۡمَتَ اللّٰہِ قَرِیۡبٌ مِّنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۵۶﴾


 قُلِ ادۡعُوا اللّٰهَ اَوِ ادۡعُوا الرَّحۡمٰنَ ؕ اَیًّامَّا تَدۡعُوۡا فَلَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی ۚ وَ لَا تَجۡھَرۡ بِصَلَاتِکَ وَ لَا تُخَافِتۡ بِھَا وَ ابۡتَغِ بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا ﴿۱۱۰}. وَ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِیۡ لَمۡ یَتَّخِذۡ وَلَدًا وَّ لَمۡ یَکُنۡ لَّهٗ شَرِیۡکٌ فِی الۡمُلۡکِ وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ کَبِّرۡہُ تَکۡبِیۡرًا ﴿۱۱۱﴾


 🌴

سورة المؤمنون 🌴

 اَفَحَسِبۡتُمۡ اَنَّمَا خَلَقۡنٰکُمۡ عَبَثًا وَّ اَنَّکُمۡ اِلَیۡنَا لَا تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۱۱۵﴾ فَتَعٰلَی اللّٰهُ الۡمَلِکُ الۡحَقُّ ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡکَرِیۡمِ ﴿۱۱۶﴾ وَ مَنۡ یَّدۡعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـہًا اٰخَرَ ۙ لَا بُرۡهَانَ لَهٗ بِهٖ ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنۡدَ رَبِّهٖ ؕ اِنَّهٗ لَا یُفۡلِحُ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۱۱۷} وَ قُلۡ رَّبِّ اغۡفِرۡ وَ ارۡحَمۡ وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿٪۱۱۸﴾


 🌴 سورة الصافات 🌴

 بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۞ وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّا ۙ﴿۱﴾فَالزّٰجِرٰتِ زَجۡرًا ۙ﴿۲﴾فَالتّٰلِیٰتِ ذِکۡرًا ۙ﴿۳﴾ اِنَّ اِلٰـہَکُمۡ لَوَاحِدٌ ﴿ؕ۴﴾رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا وَ رَبُّ الۡمَشَارِقِ ؕ﴿۵﴾اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡیَا بِزِیۡنَۃِۣ الۡکَوَاکِبِ ۙ﴿۶﴾وَ حِفۡظًا مِّنۡ کُلِّ شَیۡطٰنٍ مَّارِدٍ ۚ﴿۷﴾لَا یَسَّمَّعُوۡنَ اِلَی الۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰی وَ یُقۡذَفُوۡنَ مِنۡ کُلِّ جَانِبٍ ٭ۖ﴿۸﴾دُحُوۡرًا وَّ لَہُمۡ عَذَابٌ وَّاصِبٌ ۙ﴿۹﴾اِلَّا مَنۡ خَطِفَ الۡخَطۡفَۃَ فَاَتۡبَعَہٗ شِہَابٌ ثَاقِبٌ ﴿۱۰﴾فَاسۡتَفۡتِہِمۡ اَہُمۡ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمۡ مَّنۡ خَلَقۡنَا ؕ اِنَّا خَلَقۡنٰہُمۡ مِّنۡ طِیۡنٍ لَّازِبٍ ﴿۱۱﴾


 🌴سورۃالرحمن🌴

 یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ ﴿ۚ۳۳﴾فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۴﴾یُرۡسَلُ عَلَیۡکُمَا شُوَاظٌ مِّنۡ نَّارٍ ۬ ۙ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنۡتَصِرٰنِ ﴿ۚ۳۵﴾فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۶﴾فَاِذَا انۡشَقَّتِ السَّمَآءُ فَکَانَتۡ وَرۡدَۃً کَالدِّھَانِ ﴿ۚ۳۷﴾فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۸﴾فَیَوۡمَئِذٍ لَّا یُسۡـَٔلُ عَنۡ ذَنۡۢبِہٖۤ اِنۡسٌ وَّ لَا جَآنٌّ ﴿ۚ۳۹﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۴۰﴾


 🌴سورۃالحشر🌴

 لَوۡ اَنۡزَلۡنَا ھٰذَا الۡقُرۡاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیۡتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنۡ خَشۡیَةِ اللّٰهِ ؕ وَ تِلۡکَ الۡاَمۡثَالُ نَضۡرِبُھَا لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۲۱﴾ھُوَ اللّٰهُ الَّذِیۡ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ ۚ ھُوَ الرَّحۡمٰنُ الرَّحِیۡمُ ﴿۲۲﴾ھُوَ اللّٰهُ الَّذِیۡ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلۡمَلِکُ الۡقُدُّوۡسُ السَّلٰمُ الۡمُؤۡمِنُ الۡمُہَیۡمِنُ الۡعَزِیۡزُ الۡجَبَّارُ الۡمُتَکَبِّرُ ؕ سُبۡحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۲۳﴾ھُوَ اللّٰهُ الۡخَالِقُ الۡبَارِئُ الۡمُصَوِّرُ لَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ وَ ھُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿٪۲۴﴾


 🌴سورة الجن🌴

 بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۞ قُلۡ اُوۡحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسۡتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الۡجِنِّ فَقَالُوۡۤا اِنَّا سَمِعۡنَا قُرۡاٰنًا عَجَبًا ۙ﴿۱﴾یَّہۡدِیۡۤ اِلَی الرُّشۡدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ ؕ وَ لَنۡ نُّشۡرِکَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًا ۙ﴿۲﴾وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًا ۙ﴿۳﴾وَّ اَنَّهٗ کَانَ یَقُوۡلُ سَفِیۡہُنَا عَلَی اللّٰهِ شَطَطًا ۙ﴿۴﴾


 🌴سورة الكافرون🌴

 بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۞ قُلۡ یٰۤاَیُّہَا الۡکٰفِرُوۡنَ ۙ﴿۱﴾لَاۤ اَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُوۡنَ ۙ﴿۲﴾وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ عٰبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُ ۚ﴿۳﴾وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدۡتُّمۡ ۙ﴿۴﴾وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ عٰبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُ ؕ﴿۵﴾لَکُمۡ دِیۡنُکُمۡ وَلِیَ دِیۡنِ ٪﴿۶﴾


 🌴 سورة الإخلاص 🌴

 بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۞ قُلۡ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ ۚ﴿۱﴾اَللّٰهُ الصَّمَدُ ۚ﴿۲﴾لَمۡ یَلِدۡ ۬ ۙوَ لَمۡ یُوۡلَدۡ ۙ﴿۳﴾وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّهٗ کُفُوًا اَحَدٌ ٪﴿۴﴾


 🌴 سورة الفلق🌴

 بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۞ قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الۡفَلَقِ ۙ﴿۱﴾مِنۡ شَرِّ مَا خَلَقَ ۙ﴿۲﴾وَ مِنۡ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ ۙ﴿۳﴾وَ مِنۡ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الۡعُقَدِ ۙ﴿۴﴾وَ مِنۡ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ ٪﴿۵﴾


🌴 سورة الناس 🌴

 بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۞ قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۙ﴿۱﴾مَلِکِ النَّاسِ ۙ﴿۲﴾اِلٰهِ النَّاسِ ۙ﴿۳﴾مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ ۬ ۙالۡخَنَّاسِ ۪ۙ﴿۴﴾الَّذِیۡ یُوَسۡوِسُ فِیۡ صُدُوۡرِ النَّاسِ ۙ﴿۵﴾مِنَ الۡجِنَّةِ وَ النَّاسِ ٪﴿۶﴾

 یہ ۳۳آیات ہیں جو جادو کے اثرکو دفع کرتی ہیں اورشیاطین چوروں درندےجانوروں سےپناہ ہوجاتی ہے https://plus.google.com/104496239223778719883/posts/hDhPqfMEA1g

جمعرات، 2 فروری، 2017

خواتین کے مخصوص مسائل


بسم الله الرحمن الرحيم
اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔
خواتین کے خصوصی مسائل
۱۔ حیض ونفاس کے مسائل:
شریعت اسلامیہ میں حیض اُس خون کو کہتے ہیں جو عورت کے رحم (بچہ دانی)کے اندر سے متعینہ اوقات میں بغیر کسی بیماری کے نکلتا ہے۔ چونکہ یہ خون تقریباً ہر ماہ آتا ہے، اس لئے اس کو ماہواری (MC) بھی کہتے ہیں۔ اس خون کو اللہ تعالیٰ نے تمام عورتوں کے لئے مقدر کردیا ہے۔ حمل کے دوران یہی خون بچہ کی غذا بن جاتا ہے۔ لڑکی کے بالغ ہونے (۱۲۔ ۱۳سال کی عمر) سے تقریباً ۵۰۔۵۵ سال کی عمر تک یہ خون عورتوں کو آتا رہتاہے۔ حیض کی کم از کم ، اور زیادہ سے زیادہ مدت کے متعلق علماء کی رائے متعدد ہیں، البتہ عموماً اس کی مدت ۳ دن سے۱۰ دن تک رہتی ہے۔
نفاس اُس خون کو کہتے ہیں جو رحم مادر سے بچہ کی ولادت کے وقت اور ولادت کے بعد خارج ہوتا ہے۔ نفاس کی کم از کم مدت کی کوئی حد نہیں ہے، (ایک دو روز میں بھی بند ہوسکتا ہے) اور اس کی زیادہ سے زیادہ مدت ۴۰دن ہے۔ (مسلم، ابوداؤد، ترمذی) لہذا ۴۰ دن سے پہلے جب بھی عورت پاک ہوجائے، یعنی اس کا خون آنا بند ہوجائے، تو وہ غسل کرکے نماز شروع کردے۔ خون بند ہوجانے کے بعد بھی۴۰ دن تک انتظار کرنا اور نماز وغیرہ سے رکے رہنا‘ غلط ہے۔
حیض یا نفاس والی عورتوں کے لئے مندرجہ ذیل امور ناجائز ہیں :ان دونوں حالت میں صحبت کرنا۔ (سورۂ البقرہ ۲۲۲) البتہ ان ایام میں سوائے مجامعت کے ہر جائز شکل میں استمتاع کیا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : سوائے مجامعت (ہم بستری) کے ہر کام کرسکتے ہو (مسلم)
نماز اور روزہ کی ادائیگی۔ (مسلم) حیض سے پاک وصاف ہوجانے کے بعدعورت روزے کی قضا کرے گی، لیکن نماز کی قضا نہیں کرے گی۔ (بخاری ومسلم) نماز روزہ میں فرق کی وجہ اللہ ہی زیادہ جانتا ہے۔ پھر بھی علماء کرام نے لکھا ہے کہ نماز ایسا عمل ہے جس کی بار بار تکرار ہوتی ہے، لہذا ممکن ہے کہ مشقت اور پریشانی سے بچنے کے لئے اس کی قضاکا حکم نہیں دیا گیا، لیکن روزہ کا معاملہ اس کے بر عکس ہے (سال میں صرف ایک مرتبہ اس کا وقت آتا ہے)، لہذا روزہ کی قضا کا حکم دیاگیا۔
قرآن کریم بغیر کسی حائل (کپڑے) کے چھونا۔ قرآن کریم کو صرف پاکی کی حالت میں ہی چھوا جاسکتا ہے، لہذا ناپاکی کے ایام میں عورت کسی کپڑے مثلاً باہری غلاف کے ساتھ ہی قرآن کو چھوئے۔ (سورہ الواقعہ ۷۹، نسائی)
بیت اللہ کا طواف کرنا ۔ (بخاری ومسلم) البتہ سعی (صفا مروہ پر دوڑنا) ناپاکی کی حالت میں کی جاسکتی ہے۔ (بخاری)
مسجد میں داخل ہونا۔ (ابوداؤد) اگر عورت مسجد حرام یا کسی دوسری مسجد میں ہے اور ناپاکی کا وقت شروع ہوگیا تو عورت کو چاہئے کہ فوراً مسجد سے باہر نکل جائے، البتہ صفا مروہ یا مسجد حرام کے باہر صحن میں کسی جگہ بیٹھ سکتی ہے۔
بغیر چھوئے قرآن کریم کی تلاوت کرنا ۔ (ابوداؤد) اس سلسلہ میں علماء کی رائے مختلف ہیں، البتہ تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ ان ایام میں قرآن کریم کی تلاوت بغیر دیکھے بھی نہ کی جائے۔ البتہ قرآن کریم میں وارد اذکار اور دعائیں ان ایام میں پڑھی جاسکتی ہیں۔
 
نوٹ:
میاں بیوی کا حیض کی حالت میں صحبت کرنا، اور پیچھے کے راستے کو کسی بھی وقت اختیار کرنا حرام ہے ۔
حیض (ماہواری۔MC)کو وقتی طور پر روکنے والی دوائیں استعمال کرنے کی شرعاً گنجائش ہے۔
حیض یا نفاس والی عورت کا خون جس نماز کے وقت شروع ہوا، اگر خون شروع ہونے سے قبل نماز کی ادائیگی نہ کرسکی تو
پھر اس نماز کی قضا اس پر واجب نہیں ہے۔ البتہ جس نماز کے وقت میں خون بند ہوگا ، غسل کرکے اس نماز کی ادائیگی
اس کے ذمہ ہوگی۔
۲۔ استحاضہ کے مسائل:حیض یا نفاس کے علاوہ بیماری کی وجہ سے بھی عورت کو کبھی کبھی خون آجاتا ہے جسکو استحاضہ کہا جاتا ہے۔ اس بیماری کے خون (استحاضہ) کے نکلنے سے وضو تو ٹوٹ جاتا ہے، مگر نماز اور روزہ کی ادائیگی اس عورت کے لئے معاف نہیں ہے ۔ نیز ان بیماری کے ایام میں صحبت بھی کی جاسکتی ہے۔ (ابوداؤد، نسائی)
 
نوٹ:
اگر کسی عورت کو بیماری کا خون ہر وقت آنے لگے یعنی خون کے قطرے ہر وقت نکل رہے ہیں کہ تھوڑا سا وقت بھی نماز کی ادائیگی کے لئے نہیں مل پارہا ہے تو اس کا حکم اس شخص کی طرح ہے جس کو ہر وقت پیشاب کے قطرات گرنے کی بیماری ہوجائے کہ وہ ایک وقت کے لئے وضو کرے اور اس وقت میں جتنی چاہے نماز پڑھے ، قرآن کی تلاوت کرے، دوسری نماز کا وقت شروع ہونے پر اس کو دوسرا وضو کرنا ہوگا۔ (بخاری ومسلم)
۳۔ مانع حمل کے ذرائع کا استعمال :شریعت اسلامیہ نے اگرچہ نسلوں کو بڑھانے کی ترغیب دی ہے، لیکن پھر بھی ایسے اسباب اختیار کرنے کی اجازت دی ہے جس سے وقتی طور پرحمل نہ ٹھہرے، مثلاً دواؤں یا کنڈوم کا استعمال، یا عزل کرنا (منی کو شرمگاہ کے باہر نکالنا)۔ (بخاری)
۴۔ اسقاط حمل (Abortion) :اگر حمل ٹھہر جائے تو اسقاط حمل جائز نہیں ہے۔ (سورہ بنی اسرائیل ۳۱، سورہ الانعام۱۵۱)
البتہ شرعی وجہ جواز پائے جانے کی صورت میں بہت بھی نہایت محدود دائرہ میں حمل کا اسقاط جائز ہے۔
چار مہینے مکمل ہوجانے کے بعد حمل کا اسقاط بالکل حرام ہے، کیونکہ وہ ایک جان کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔
اگر کسی وجہ سے حمل کے برقرار رہنے سے ماں کی جان کو خطرہ ہوجائے تو ماں کی زندگی کو بچانے کے لئے چار ماہ کے بعد بھی اسقاط حمل جائزہے۔ یہ محض دو ضرر میں سے بڑے ضرر کو دور کرنے، اور دو مصلحتوں میں سے بڑی مصلحت کو حاصل کرنے کی لئے اجازت دی گئی ہے۔
۵۔ رضاعت (دودھ پلانے) سے حرمت کا مسئلہ:اگر کوئی عورت کسی دو سال سے کم عمر کے بچے کو اپنا دودھ پلادے تو وہ دونوں ماں بیٹے کے حکم میں ہوجاتے ہیں، لیکن قرآن وحدیث کی روشنی میں‘ جمہور علماء کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رضاعت (دودھ پلانے) کے لئے بنیادی شرط یہ ہے کہ دودھ چھڑانے کی مدت سے پہلے بچے نے دودھ پیا ہو۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :جن عورتوں کا ارادہ ‘ دودھ پلانے کی مدت پوری کرنے کاہے، وہ اپنی اولاد کو دو سال مکمل دودھ پلائیں۔ (سورہ البقرہ۲۳۳)
نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : رضاعت سے حرمت صرف اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب کہ رضاعت (دودھ پلانا) دودھ چھڑانے کی مدت سے پہلے ہو۔ (ترمذی) یعنی دودھ پلانے سے ماں بیٹے کا رشتہ اسی وقت ہوگا جبکہ دودھ چھڑانے کی مدت سے پہلے بچے کو دودھ پلایا جائے۔ امام ترمذی ؒ نے اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا : حدیث صحیح ہے اور صحابہ کرام کا عمل بھی یہی تھاکہ رضاعت سے حرمت اسی وقت ثابت ہوگی جب دودھ چھڑانے کی مدت سے پہلے بچے نے دودھ پیا ہو۔ دودھ چھڑانے کی مدت کے بعد کسی مرد کو دودھ پلانے سے کوئی حرمت ثابت نہیں ہوتی ہے۔ (ترمذی)۔
امام ابوحنیفہ ؒ نے اگرچہ ڈھائی سال تک بچے کو دودھ پلانے کی گنجائش رکھی ہے، البتہ علماء احناف کا فتویٰ دو سال تک ہی دودھ پلانے کا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا دودھ پی لے تو اس سے نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، البتہ ایسا کرنے سے بچنا چاہئے۔ صحابہ کرام کے زمانے سے آج تک امت مسلمہ کے 99.99% محدثین، مفسرین ، مفکرین ، فقہا، نیز چاروں امام اور جمہور علماء کرام اس بات پر متفق ہیں کہ کسی مرد کو عورت کا دودھ پلانے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی ہے، یعنی دونوں کے درمیان کسی بھی شکل میں ماں بیٹے کا رشتہ نہیں بن سکتاہے، اس کے لئے بنیادی شرط ہے کہ دودھ چھڑانے کی مدت سے پہلے بچے کو دودھ پلایا جائے۔
محمد نجیب قاسمی، ریاض

پاک اردو انسٹالر

  <center><a target="_blank" href="http://www.mbilalm.com/urdu-installer.php" title="Pak Urdu Installer...