اس بلاگ پر فقہ حنفی سے مزین علماء اہل حق علماء کے متبعین کے لئے اور جو مزید حق کاطالب ہو شریعت محمدﷺ کی درست راہنمائ ملے گی اور ان شاءاللہ مدلل بھی ہوگا دلیل میں بھی کوشش کتاب اور باب کاحوالہ بھی دیا جائے گا تاکہ مراجعت کرنا آسان ہو
جمعہ، 3 مئی، 2019
جمعہ کے دن عصر کے بعد پڑھے جانے والے درود کی تحقیق
جمعہ کے دن عصر کے بعد پڑھے جانے والے درود شریف کی تحقیق
)
تخريج حديث : ( من صلى علي يوم الجمعة ثمانين مرة غفرت له ذنوب ثمانين عاما ) کاترجمہ
يہ حديث تین صحابہ :حضرت ابوہريرهؓ، حضرت انسؓ، اورحضرت سہل بن عبدالله سے مروی ہے
(۱) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت
حديثِ کی تخريج
ابن شاہین نے (الترغيب فی فضائل الاعمال، 22)میں،
ابن شاہین كے طريق سے ابن بشكوال نے (القربۃ 109)میں،
اور دارقطنی نے اپنی كتاب(الافراد،واطراف الغرائب 5095)میں،
اور ديلمی نے (مسندالفردوس:2/408) میں،اوراسی طرح ابوالشيخ اورضياء الدین مقدسی،
ان سب نے دارقطنی كے طریق سے بيان كياہے۔کمافی(السلسلۃ الضعيفۃ:3804)۔
ان تمام حضرات نے حدیث کی روایت مندرجہ ذيل سند سے كی ہے:
حدثنا عون بن عمارة قال :حدثنا السكن البُرجُمی ، عن الحَجّاج بن سِنان ، عن علي بن زيد ، عن سعيد بن المسيب ، عن أبي هريرة مرفوعا بلفظ : ” الصلاة عليَّ نور علی الصراط ، فمن صلی عليَّ يوم الجمعة ثمانين مرة غفرت له ذنوبُ ثمانين عاما “۔
اورامام سخاوی علیہ الرحمہ نے ”القول البديع:ص284“میں حضرت ابوہريره كی روايت میں”قبل أن يقوم من مقامه“ اور ”وكتبت له عبادة ثمانين سنة“كی زيادتی نقل کی ہے، اس زيادتی كے نقل کرنےمیں امام سخاوی منفرد ہیں، اوراس كی نسبت انہوں نے ابن بشكوال كی طرف كی ہے، لیكن یہ زيادتی”القربۃ“ میں موجود نہیں ہے، تومعلوم نہیں کہ یہ زیادتی ابن بشكوال کی کونسی كتاب میں موجود ہے ؟
امام سخاوی ؒ کی عبارت ملاحظہ فرمائیں :”وفی لفظٍ عند ابن بشكوال من حديث أبي هريرة أيضا : من صلى صلاة العصر من يوم الجمعة فقال قبل أن يقوم مكانه : اللهم صل على محمد النبي الأمي وعلى آله وسلم تسليما ، ثمانين مرة ، غُفِرت له ذنوب ثمانين عاما ، وكتبت له عبادة ثمانين سنة “۔
حدیث کی متابعات :
(۱) زكريا برجمی كی متابعت:امام ازدی نے ”الضعفاء المتروكین“ میں سكن بن ابى السكن كے بجائے زكريا البرجمی سے يہ روايت نقل کی ہے، جیساکہ امام ذہبیؒ نے (ميزان الاعتدال:2881) اور حافظ ابن حجرؒ نے(لسان الميزان:3222)میں زكريا بن عبدالرحمن برجمی كے ترجمہ میں ذكركياہے، اور امام ازدی نے زكريا كوضعیف قراردياہے۔
(۲) منصور بن صقیر كی متابعت:شیخ البانی فرماتے ہیں: يوسف بن عمر القواس نےاس حدیث میں عون بن عمارةكے بجائےمنصور بن صقيرکو ذکر کیا ہے،گويايوسف بن عمر نے عون بن عمارة كی سندِ حديث میں مخالفت كی ہے، البتہ يہ دونوں یعنی عون اور منصور سكن البرجمی سے روايت كرنے میں متفق ہيں، نیز یہ متابعت (جزء ابی القاسم الازجی 16)میں بھی مذكورہے، البانی نے (تقريب التہذیب) كے حوالے سے منصوربن صقيركی تضعیف بھی نقل كی ہے۔
(۳) حضرت ابوذرؓكی متابعت:ابن عساكر نے ذكركياہے كہ عون بن عمارة كے علاوه راویوں نے سكن سے جب روايت كی تو انہوں نے حضرت ابوہريره كے بجائےحضرت ابوذرغفاریؓ کو صحابی حدیث بتایا ہے ۔(القول البدیع:284)۔
سند کی تحقیق:
اس حدیث کی سند بہت کمزور ہے۔اس میں تین رواۃ ضعیف ہیں:
(۱) عون بن عمارۃ:ان کے بارے میں ابو زرعہ نے فرمایا: منکر الحدیث، اور ابو حاتم نے کہا: میں نے ان کا زمانہ پایا البتہ میں ان کے بارے میں سکوت اختیار کرتاہوں، اور وہ منکر الحدیث بھی تھے اور ضعیف بھی تھے۔اور امام ابو داود نے فرمایا:ضعیف ]تہذیب التہذیب8/173]۔ ابن طاہر مقدسی نے کہا:وہ کثیر الغلط لوگوں میں سے ہیں، لہذا ان کی بات سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔[معرفۃ التذکرۃـ 1078]۔
(۲) حجاج بن سنان:امام ازدی نےان کومتروک الروایۃ بتایا ہے۔]لسان المیزان2/563]۔
(۳) علی بن زیدبن جدعان:امام ابو زرعہ نے کہا:وہ ثقہ نہیں ہیں، خطاکرتے ہیں اور وہم کے شکار ہوتے ہیں۔اورامام احمد نے کہا:معتبر نہیں ہیں۔ابوحاتم نے کہا:لایحتج بہ۔دار قطنی کہا:میرے نزدیک وہ ضعیف ہی رہے، اور شعبہ نے ان پر اختلاط کا الزام لگایا ہے۔[المغنی للذہبی2/447]۔
اور سعید بن المسیب کو صحابی کے بارے میں جوشک ہواہے کہ وہ ابوہریرہ ہیں یا ابو ذر؟اگر یہ شک سعید کو ہواہو تو کوئی حرج نہیں ہے، اور اگر ان کے علاوہ کسی ضعیف راوی کوشک ہواہو تووہ اضطراب ہوگا، اور وہ راوی کے ضبط میں مؤثر ہوگا۔
حدیث کا حكم:
دارقطنی نے فرمایا:علی بن زیدسے روایت كرنے میں حجاج بن سنان منفرد ہیں، اور حجاج سے بھی صرف سكن بن ابی السكن نے ہی روایت كیاہے۔
حافظ (لسان المیزان) میں حجاج بن سنان كے ترجمہ میں كہتے ہیں:حدیث منكر، اور (نتائج الافكار تخریج احادیث الاذكار-5/56)میں فرمایا:غریب، اوراس كے چاروں رواۃ ضعیف ہیں۔
البانی نے (سلسلۃضعیفہ حدیث3804) میں كہا:ضعیف۔
جبکہ امام عراقی نے (تخریج احادیث الاحیاء )میں ابوعبداللہ محمد بن موسی بن نعمان سے نقل كیا، کہ وہ فرماتے ہیں:حدیث حسن۔سخاوی نے (القول البدیع-285) میں اس پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ:یہ بات محل نظرہے۔(یعنی:حدیث كی سند ،یا ابن نعمان كی تحسین )۔
(۲) حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت
حدیث کی تخریج :
حدیثِ انس بن مالكؓ دوسندوں سے مروی ہے:
پہلی سند :
وهب بن داود بن سليمان المخرّمي ، عن إسماعيل بن إبراهيم الشهير بابن عُلية ، عن عبد العزيز بن صهيب ، عن أنس مرفوعا ۔
اس سند كے واسطہ سے حدیث کی تخریج:
(۱) خطیب بغدادی نے (تاریخِ بغداد3/489)میں وہب بن داود كے ترجمہ میں کی ہے۔
(۲) ابن الجوزی نے(العلل المتناہیۃ:796)میں ۔
(۳) اور ابوسعدنے( شرف المصطفی :حدیث2044)میں، مگرانہوں نے سند بیان نہیں كی ہے، اوراس میں”مئة مرة “ كے الفاظ ہیں ۔
پہلی سند سےحدیثِ انس بن مالكؓ کےالفاظ یہ ہیں: من صلی علي يوم الجمعة ثمانين مرة غفر الله له ذنوب ثمانين عاما ، فقيل له : و كيف الصلاة عليك يا رسول الله ؟ قال : تقول : اللهم صل علی محمد عبدك ونبيك ورسولك النبي الأمي ، وتعقد واحدا .
پہلی سندکا حال :
اس میں وہب بن داود بن سلیمان المخرمی ہے، خطیب نےاسےغیر موثوق بہ كہاہے۔
پہلی سند کاحكم :
ابن الجوزی نے (العلل المتناہیۃ-796)میں فرمایا:یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔
حافظ ذہبی نے (المغنی فی الضعفاء:6904)میں فرمایا:یہ وہب بن داود كی وضع کردہ ہے۔
البانی كہتے ہیں:كہ یہ روایت ابن الجوزی نے (الاحادیث الواہیۃ) میں ذكر كی ہے۔میں كہتاہوں كہ: یہ ان كی دوسری كتاب”الاحادیث الموضوعات“کے زیادہ مناسب ہے، اس لئے كہ اس حدیث میں علاماتِ وضع ظاہر ہیں۔
دوسری سند:
محمد بن رِزَام ، عن محمد بن عمرو ، عن مالك بن دينار وأبان ، عن أنس .
حدیثِ کی دوسری سندسے تخریج :
اس كی تخریج اسی سند سے قوام السنۃ نے(الترغیب-1696)میں ( من صلی علي في كل يوم جمعة أربعين مرة محا الله عنه ذنوب أربعين سنة ، ومن صلی علي مرة واحدة فتقبلت منه ، محا الله عنه ذنوب ثمانين سنة ، ومن قرأ : قل هو الله أحد أربعين مرة حتی يختم السورة بنی الله له مناراً في جسر جهنم حتی يجاوز الجسر ) كے الفاظ كے ساتھ كی ہے۔
دوسری سند کا حال :
اس میں محمد بن رزام بصری ہے، ذہبی نے (میزان -3/545)میں اس پروضعِ حدیث كی تہمت لگائی ہے۔اس كی كنیت ”ابوعبدالملك“ہے۔امام ازدی كہتے ہیں:يہ متروك الحدیث ہے۔دارقطنی نے كہا كہ:اباطیل بیان كرتاہے۔
(۳) حضرت سہل بن عبد اللہ کی روایت
اسے ابن بشكوال نے (القربۃالی رب العالمین 111)میں روایت كیاہے، اوركہا:ہمارے شیخ ابوالقاسم نے ہم سے كہاکہ: سہل بن عبداللہ سے مروی ہے: من قال في يوم الجمعة بعد العصرِ : اللهم صل علی محمد النبي الأمي وعلی آله وسلم ، ثمانين مرة ، غفرت له ذنوب ثمانين سنة .
سہل بن عبداللہ صحابی تو نہیں ہیں، بلکہ سندمیں کوئی شیخ ہیں جن كی شخصیت میں پہچان نہیں سكا۔ممكن ہے كہ وہ سہل بن عبداللہ بن بریدۃ بن الحصیب الاسلمی المروزی ہوں، جوكہ منكرالحدیث ہیں۔(كمافی المغنی للذہبی:1/145) ياابوالحسن سہل بن عبداللہ الغازی الاصبہانی ہوں، جوكہ پانچویں صدی ہجری كے متاخرین میں سے ہیں۔(كمافی تاریخ دمشق:10/130)۔
تنبیہ:مجھے كراچی سے نكلنے والےرسالہ(بینات،شمارہ رجب۱۴۳۷ھ )میں اس حدیث كی تخریج كے متعلق ايك مقالہ ملا، جس میں كاتب ِمقالہ نے اپنی طرف سے سہل بن عبداللہ كی روایت كی مخترع سند بیان كی ہے، جو توجہ كے قابل نہیں ہے، اور یہ علوم ِ اسناد كے باب میں واضح جہالت ہے، اہل رسالہ كو چاہئےتھا كہ وہ ایسے ضعیف اور غیرمستند مقالہ کے شائع كرنے میں احتیاط برتتے۔
خلاصۂ حكم علی الحديث
حدیث بیحد ضعیف ہے، ثبوت كے درجہ كونہیں پہنچتی، اوراس كی اصل فقط حدیثِ ابی ہریرہؓ ہے، جس میں تین ایسے ضعیف راوی ہیں جن كے ضعف كا ازالہ ان كےروایت کرنے میں منفرد ہونے كی وجہ سے ممكن نہیں ہے۔
اور حدیثِ انس اس كےليے شاہد نہیں بن سكتی اس لیے كہ وہ موضوع ہے۔اورنہ ہی روایتِ سہل بن عبداللہ كيوں كہ اس كی كوئی معتمد سند نہیں ہے۔
لہٰذا ،اب پوری بحث فقط حدیثِ ابی ہریرہ پرمنحصرہوگئی۔اورحدیث ابی ہریرہؓ كی صحت میں دومؤثر علتیں ہیں:
(۱) بعض راويوں كا تفرد۔
(۲) بعض راويوں كے بارے میں شدید جرح۔
پہلی علت کی تفصیلی بحث
راوی کا تفرد محدثین كے نزدیك اس کی روایت كی صحت میں مؤثر ہوتاہے، خاص طورسے جب كہ تفردكرنے والا راوی ضعیف اورمجروح ہو۔
امام ابوداودعلیہ الرحمہ اپنی كتاب (سننِ ابی داود)كی احادیث كے وصف میں فرماتے ہیں:”وہ احادیث جنہیں میں نے كتاب السنن میں لیاہے ،وہ اكثرمشہور روایات ہیں، اوروہ ہرحدیث لكھنے والے كے نزدیك معروف ہيں، مگر ان کے ما بین تميزکرنے پر ہرایك قادرنہیں ہوتا۔البتہ ان كے علو مرتبہ كے ليے اتنا كافی ہے كہ وہ مشہورہیں۔اس ليے كہ حدیثِ غریب(غیر معروف) حجت نہیں ہے، چاہے يہ غریب حدیث امام مالك، يحیی بن سعید، اور ان جيسے ثقاتِ اہلِ علم كی روایات سے منقول ہو۔
اور جوكوئی غریب غیر مشہورحدیث سے استدلال كرے گاتو اس کی وجہ سے اس پر طعن کرنےوالا كوئی نہ كوئی آپ كوضرور ملے گا۔اورايسی حدیث قابل ِاحتجاج نہیں ہے جو غریب وشاذ ہو،رہ گئی بات اس صحیح حدیث كی جو مشہوراورمتصل الاسناد ہو تواس كی بابت آپ پرطعن كرنے پر كوئی قادرنہ ہوگا۔“
ابن الصلاح نے رواۃ كے تفرد پر بحث كرتے ہوئے فرمایا :” متفرد بالروایت راوی كے حالات میں غور كیا جائے، اگر وہ عادل حافظ اورموثوق بالاتقان والحفظ ہو،تو اس کا تفرد قابلِ قبول ہوگا، اور اس كا اس حدیث كے باب میں انفراد مؤثرنہیں ہوگا ... پھر فرمایا:اور اگر وہ راوی اس روایت میں تفرد کی بابت موثوق بالحفظ والاتقان نہ ہو، تو اس کا تفرد اس کی ثقاہت میں مؤثر ہوگا،اور روایت مرتبۂ صحت سےمنحط ہوگی۔
پھر راویوں کاتفرد راویوں كے حالات كے اعتبارسے مختلف مراتب کا ہوتاہے۔چنانچہ تفرد کرنے والاراوی ،اگر ایسے راوی کے مرتبہ کے قریب ہو جوپختگی ِحفظ سے موصوف اور مقبول التفرد ہے، تو ہم اس کی منفرد روایت کو حسن کا درجہ دیں گے ، اور اس روایت کو ضعیف نہیں قرار دیں گے۔اوراگر تفرد كرنے والا راوی مذكورہ مرتبہ سے دورہو تو اس كاتفرد مردود ہوگا، اوراس کی روایت حدیثِ شاذ كی قبیل سے ہوگی۔[علوم الحدیث لابن الصلاح ص79]
امام ابن رجب فرماتے ہیں:كہ اكثر متقدمین علماء حدیث ایسی روایت كے بارے میں ،جب كہ اس كا راوی منفردہو، اگرچہ ثقہ راوی اس کی روایت کے خلاف بیان نہ كرتے ہوں ،فرماتے ہیں:اس راوی كی متابعت نہیں کی جائے گی ، اور اس کے تفرد كو وہ حضرات اس کے حفظ میں مؤثر شمار كرتے ہیں۔ الایہ كہ راوی ان اشخاص میں سے ہوجن کاحفظ وضبط اور عدالت مشہور ہو، جیسےامام زہری اور ان كے مانند۔بلکہ بعض مرتبہ کبارِ حفاظ ِ حدیث کے تفردات کو بھی منکر قرار دے کر رد کردیتے ہیں، اور نقادِ حدیث کی ہر حدیث میں ایک خاص ناقدانہ نظر ہوتی ہے ، جس کا ان کے یہاں کوئی ضابطہ نہیں ہوتا ہے ۔[شرح علل ترمذی 2/582]۔
ان نصوص کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو زیرِ بحث روایت میں دارقطنی نے دو راویوں کے بارے میں تفرد کا حکم لگایا ہے:
پہلے راوی :حجاج بن سنان ، کہا کہ وہ علی بن زید سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔
دوسرے راوی :سکن بن ابراہیم ، کہا کہ وہ حجاج بن سنان سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔
حجاج تو متروک الروایت ہے ، تو اس کا تفرد منکر غیر مقبول ہے ۔ جبکہ سکن کی دراقطنی نے توثیق کی ہے ، تو اس کا تفرد محدثین کی اصطلاح کے مطابق شذو ذواغراب ہے ۔
دوسری علت کی تفصیلی بحث
سند میں بعض راویوں پر محدثین نے بہت شدید جرح كی ہے، اور وہ تین راوی ہیں:(۱)عون بن عمارۃ۔(۲)حجاج بن سنان۔(۳)علی بن زیدبن جدعان۔
اوران میں سے ہرایك راوی پرجوجروح كی گئیں ہیں كمامرّ، وہ جروح ایسی ہیں جو ان كی روایت كی صحت میں مؤثر ہیں ۔ناقدینِ حدیث نے مذكورہ راویوں كے بارے میں ان كے تفرد، كثرتِ اغلاط ،اور قابل حجت نہ ہونے كی تصریح كی ہے۔اور حافظ ابن حجرؒ نے حجاج كی روایت كو ”غریب منكر“كہاہے۔
اسی طرح حدیث كی جومتابعات ذكركی گئیں، جیسے:زكریا برجمی كی سكن ابن ابی السكن كی متابعت، اور منصوربن صقیر كی عون بن عمارۃ كی متابعت، تو یہ متابعات حدیث كو تقویت دینے كی صلاحیت نہیں رکھتی ہے۔اس لیے كہ متابعت كرنے والا راوی ،متابعت كئے گئے راوی سےزیادہ ضعیف ہے۔
ایک اشکال کا جواب
پھر اگر یہ اشكال كیا جائے كہ مذكورہ روایت فضائلِ اعمال كے باب میں ہے، اورعلماءِ حدیث فضائل میں حدیثِ ضعیف كو معتبرمانتے ہیں؟
تواس كا جواب یہ ہے كہ ہر ضعیف حدیث كو فضائل كے باب میں معتبر ماننا جیساكہ بعض لوگ گمان كرتے ہیں، یہ صحیح نہیں ہے۔بلكہ فضائل كے باب میں ضعیف حدیث پر عمل كرنے كے چند شرائط علماء نے ذكركیے ہیں:
حافظ ابن حجرؒنے مندرجہ ذیل شرائط ذكركیے ہیں:
(۱) پہلی شرط :روایت ضعفِ شدید سے متصف نہ ہو۔اس شرط كی قید سے وہ روایتیں جو كذابین، متہمین بالكذب اور فاحش الغلط راویوں كی سند سے منقول ہیں وہ باہر ہوجائیں گی۔اور امام علائی نے اس شرط پر اتفاق نقل كیاہے۔[القول البدیع-472-473]۔
اسی بناء پر ایسی حدیث كی روایت كرنا، اگرچہ فضائل كے باب میں ہو،جائزنہیں ہے، الایہ كہ اس كے ضعف كی صراحت كی جائے، تاكہ كوئی اس كے بارے میں دھوكہ میں نہ پڑے۔
(۲) دوسری شرط:شریعت كے عام اصولوں میں سے كسی اصلِ عام كے ماتحت مندرج ہو۔اس شرط سے وہ روایات خارج ہیں جو من گھڑت ہوں ، اور كسی اصل كے تحت نہیں آتی ہوں۔
(۳) تیسری شرط:اس ضعیف روایت پر عمل كرنے والا عمل کرتے وقت اس روایت كے ثبوت كا اعتقاد نہ ركھے، بلكہ ثواب كی امید ركھتے ہوئے احتیاطاً عمل كرے۔تاكہ ثبوت كے اعتقاد ركھنے میں حضور اكرم ﷺ كی طرف كسی غیرثابت بات كی نسبت لازم نہ آئے۔اس لیے كہ یہ جائزنہیں ہے كہ حضورﷺ كی طرف كوئی بات منسوب كی جائے، جب تك اس كی كوئی معتبرسند نہ ہو۔
اب اگر مذکورہ شرائط پر زیرِ بحث روایت کو پیش كیاجائے تاكہ انطباق وعدمِ انطباق كا پتہ چل جائے، تو ہم دیكھیں گے كہ اس حدیث میں شرطِ اول تومفقود ہے۔
جہاں تك تعلق ہے شرطِ ثانی كا، تو یہ شرط حدیثِ پاك میں تین اصول كے تحت پائی جارہی ہے:
(۱) شبِ جمعہ اور یومِ جمعہ میں آپﷺ پر درودِ پاك پڑھنے كی فضیلت۔اوریہ اصل مشہورہے، اس لئےاس پرتدلیل كی كوئی ضرورت نہیں ہے۔
(۲) یومِ جمعہ كی فضیلت۔جوكہ احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے۔چنانچہ نبی كریمﷺ كا ارشاد ہے:” « خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ ، وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا، وَلاَ تَقُومُ السَّاعَةُ إِلاَّ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ ». ]رواه مسلم برقم 854من حديث ابی هريرة[ .
(۳) جمعہ كے دن عصركے بعد كے وقت كی فضیلت۔اس پر بہت سی احادیث دلالت كرتی ہیں، چنانچہ ایك حدیث میں ارشاد ہے: « يَوْمُ الْجُمُعَةِ ثِنْتَا عَشْرَةَ » يُرِيدُ سَاعَةً « لاَ يُوجَدُ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا إِلاَّ آتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَالْتَمِسُوهَا آخِرَ سَاعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ ».[ اخرجہ ابوداود برقم 1050من حديث جابر ].
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :جمعہ کا دن بارہ ساعت کا ہوتا ہے، ان میں سے ایک ساعت (گھڑی) ایسی ہے کہ اگر اس وقت کوئی مسلمان بندہ اللہ سے کچھ مانگے تو اس کو ضرور دیا جاتا ہے ،پس اس گھڑی کو عصر کے بعد آخر وقت میں تلاش کرو۔
ایک اور حدیث جوحضرت ابو ہريرة رضی الله عنہ سے مروی ہے : « خير يوم طلعت فيه الشمس يوم الجمعة ، فيه خلق آدم ، وفيه أدخل الجنة ، وفيه أهبط منها ، وفيه ساعة لا يوافقها عبد مسلم فيسأل الله فيها شيئا إلاأعطاه إياه. قال أبو هريرة : فلقيت عبد الله بن سلام فذكرت له هذا الحديث ، فقال : أنا أعلم بتلك الساعة ، فقلت : أخبرني بها ولا تضنن بها علي ؟ قال : هي بعد العصر إلى أن تغرب الشمس. فقلت : كيف تكون بعد العصر وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ( لا يوافقها عبد مسلم وهو يصلي) وتلك الساعة لا يصلّى فيها ؟ فقال عبد الله بن سلام : أليس قد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ( من جلس مجلسا ينتظر الصلاة فهو في صلاة ) ؟ قلت: بلى ، قال: فهو ذاك»[ اخرجہ بنحوه الترمذی برقم 914] .
ترجمہ :ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :تمام دنوں میں بہترین دن کہ اس میں سورج نکلتا ہے جمعہ کا دن ہے، اس دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے ،اور اسی دن جنت میں داخل ہوئے ،اور اسی دن جنت سے نکالے گئے، اس میں ایک وقت ایسا ہے کہ اگر اس میں مسلمان بندہ نماز پڑھتا ہو پھر اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز ضرور عطا کر دیتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں میں نے عبداللہ بن سلام سے ملاقات کی تو ان سے اس حدیث کا تذکرہ کیا، انہوں نے فرمایا :میں وہ گھڑی جانتا ہوں ،میں نے کہا پھر مجھے بتائیے اور بخل سے کام نہ لیجئے۔ انہوں نے کہا :عصر سے غروب آفتاب تک۔ میں نے کہا :یہ کیسے ہو سکتا ہےجبکہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ :(نہیں پاتا کوئی بندہ مسلم حالت نماز میں) اور عصر کے بعد تو کوئی نماز نہیں پڑھی جاتی ؟عبداللہ بن سلام نے کہا :کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ: جو شخص کہیں نماز کے انتظار میں بیٹھے گویا کہ وہ نماز میں ہے؟ میں نے کہا ہاں یہ تو فرمایا ہے، عبداللہ بن سلام نے کہا :یہ بھی اسی طرح ہے۔
بہر حال یہ تین فضائل كے اصول ہیں جن كے ماتحت یہ حدیث مندرج ہوجاتی ہے۔
رہ گئی حدیثِ ضعیف پر عمل كرنے كی تیسری شرط، اوروہ ہے كہ: حدیث پرعمل كرتے وقت اس كے ثبوت كا یقین نہ ركھنا، بلكہ ثواب كی امید پر احتیاطاً عمل كرنا۔اس شرط كالحاظ ركھتے ہوئے ضعیف حدیث پر عمل كرنے كی اجازت متقدمین اور متاخرینِ اہلِ علم نے دی ہے۔اورعلامہ سخاویؒ نے ان كےاقوال (القول البدیع )كے خاتمہ میں تفصیل كے ساتھ نقل كیے ہیں۔
الحاصل میری ذاتی رائے اس حدیث كے متعلق یہ ہے: كہ اس حدیث كواگرہم احتجاج اور ثبوت كی نظرسے دیكھیں تو وہ احتجاج كے قابل نہیں ہے۔لیكن اس پر عمل كرنے كی گنجائش ہے ، بشرطیكہ اس كے مسنون ہونے كا اعتقاد نہ ہو،سند كے شدید الضعف ہونے کی وجہ سے۔ البتہ اس پر ثواب كی امید كے ساتھ عمل كرسكتےہیں من باب الاحتیاط، اس لیے كہ ممكن ہے كہ كسی درجہ میں اس كاثبوت ہو۔مگر اس كےساتھ ساتھ مذكورہ قیودات كاالتزام نہ كرے، جیسے:عصركے بعد پڑھنا، اوراپنی جگہ سےاٹھنے سے پہلے پڑھنا۔اوریہ بھی ہے کہ ہر جمعہ اس كے پڑھنے كا التزام نہ كرے، بلكہ كبھی كبھی ترك بھی كردے، تاكہ سنتِ ثابتہ ہونے كا اعتقاد دل میں راسخ نہ ہو۔
هذا ما تيسر جمعه وترتيبه في تخريج هذا الحديث ، والله الموفق للصواب .
قام بترجمته من العربية الفاضلان :
المولوي :محمد عبيد بن عبد الباسط منيار
والمولوي : خبيب بن محمد أيوب منيار
نفع الله بهما
جمعہ، 26 اپریل، 2019
جمعرات، 18 اپریل، 2019
جمعہ، 12 اپریل، 2019
جمعہ، 5 اپریل، 2019
اولاد کی تربیت قول وافکار والدین
*اولاد کی تربیت قول وافکار والدین*
*✍🏻ابو محمداحقرامداداللّٰه عفی عنه حیدرآباد*
قسط نمبر1
ہر ماں باپ کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ انکی اولاد مہذب باادب اور خوش اخلاق ہو اس کیلئے ماں باپ کو سب سے پہلے چند کام کرنے لازم ہیں,
❶ اولاد کے سامنے بدکلامی اور گالم گلوچ کسی سے (نہ سامنے نہ فون پر) نہ کریں,
❷ ماں باپ آپس میں بداخلاقی یا رنجش کا اظہار اولاد کے سامنے ہر گز نہ کریں,
❸ اولاد سے مخاطب بھی آپ جناب اور آئیے کیجئے نہیں کریئے جیسے الفاظ سے ہوں,
❹ اولاد کو ہمیشہ جھکنا, معافی مانگنا, غلطی سے توبہ کرنا, سچ بولنا سکھائیں,
❺ کسی کے بھی متعلق والدین اپنی سوچ اچھی سچی اور پاکیزہ رکھے کیونکہ پوشیدہ سوچ کی اسکرین اولاد ہوتی ہے.
والدین کی گفتگو کا طرز اور انکی رنجشوں کا اظہار پیٹ پیچھے لیکن اولاد کے سامنے ایک دوسرے کے متعلق ناراضگی اور غصہ کااظہار بچوں کو پڑھائے جانے والے سبق کی طرح بغیر پڑھائے نقش ہو جاتا ہے اور فورا عمل میں آجاتاہے,
*اولاد کی تربیت قول وافکار والدین*
*✍🏻ابو محمداحقرامداداللّٰه عفی عنه حیدرآباد*
قسط نمبر2
❶ والد یا والدہ جب بھی کبھی اپنے دوست احباب کے ساتھ بیٹھے ہوں اور اولاد بھی ساتھ ہو تو اس وقت بھی ہنسی مذاق میں الفاظ کاچناؤ بولنے کا انداز کسی طور غیر مہذبانہ نہ ہو چینخ کر بولنا شور کرنا یہ سب اولاد کو برے طریقے سکھاتا ہے,
❷ والدین اپنی سوچ بھی پاکیزہ رکھیں مطلب یہ کہ کسی کیلئے برا یا غلط سوچیں گے تو یہ اولاد کے اندر پیدا ہوجائیں گی,
❸ اولاد ساتھ ہو تو خریداری کے وقت پیسوں کے معاملہ میں زیادہ بحث مباحثہ اور تلخ کلامی نہ کریں,
*اولاد کی تربیت قول وافکار والدین*
*✍🏻ابو محمداحقرامداداللّٰه عفی عنه حیدرآباد*
قسط نمبر3
❶ اولاد کو کسی بھی کام کے نقصان کی دھمکی یا بدعاء نہ دیں بلکہ خبر دیکر روکنے کی کوشش کریں,
مثلا: بیٹایہ کرنے سے یہ نقصان ہوتا ہے یہ نہ کرو یہ ہوجاتا ہے, یوں نہ کہیں کہ یہ ہوجائےگا یا یہ ہوگا تو پتا چلے گا,
جیسے بیٹا آگ سے ہاتھ جل جاتاہے,
یوں نہ کہیں کہ ہاتھ جل جائےگا یا ہاتھ جلے گا تو پتا چلے گا,
بیٹا چھری سے نہ کھیلو ہاتھ کٹ جاتاہے,
یوں نہ کہیں کہ ہاتھ کٹ جائےگا یا ہاتھ کٹے گا تو پتا چلے گا,
❷ بچوں کو خصوصا چھوٹے بچوں کو پیار سے سمجھائیں کوسنے یا مار کی دھمکی یا کوئ بھی بات چلا کر یا مار کر نہ کہیں ورنہ یہ بچے کی عادت بن جائے گی پھر اس کے بغیر کام نہ چلے گا,
*اولاد کی تربیت قول وافکار والدین*
*✍🏻ابو محمداحقرامداداللّٰه عفی عنه حیدرآباد*
قسط نمبر3
❶ اولاد کو کسی بھی کام کے نقصان کی دھمکی یا بدعاء نہ دیں بلکہ خبر دیکر روکنے کی کوشش کریں,
مثلا: بیٹایہ کرنے سے یہ نقصان ہوتا ہے یہ نہ کرو یہ ہوجاتا ہے, یوں نہ کہیں کہ یہ ہوجائےگا یا یہ ہوگا تو پتا چلے گا,
جیسے بیٹا آگ سے ہاتھ جل جاتاہے,
یوں نہ کہیں کہ ہاتھ جل جائےگا یا ہاتھ جلے گا تو پتا چلے گا,
بیٹا چھری سے نہ کھیلو ہاتھ کٹ جاتاہے,
یوں نہ کہیں کہ ہاتھ کٹ جائےگا یا ہاتھ کٹے گا تو پتا چلے گا,
❷ بچوں کو خصوصا چھوٹے بچوں کو پیار سے سمجھائیں کوسنے یا مار کی دھمکی یا کوئ بھی بات چلا کر یا مار کر نہ کہیں ورنہ یہ بچے کی عادت بن جائے گی پھر اس کے بغیر کام نہ چلے گا,
ہفتہ، 15 ستمبر، 2018
ماہ محرم
محرم میں ماتم
سوال …محرم الحرام کے مہینے میں حضرت حسین رضی الله عنہ کی شہادت کی وجہ سے غم اور سوگ کا اظہار کرنا، مرثیہ خوانی آہ و بکاء اور ماتم کرنا درست ہے یا نہیں؟ بعض سنی حضرات بھی ماتم وغیرہ کرتے ہیں تو کیا ان کے لیے اس طرح ماتم وغیرہ درست ہے یا نہیں؟ جواب …واضح رہے کہ شریعت مطہرہ نے مصائب کے وقت صبر کی تعلیم دی ہے اور ماتم صبر کے منافی ہے اس لیے اسلام میں ماتم، غم اور سوگ کا اظہار، مرثیہ خوانی اور آہ و بکاء ناجائز و حرام ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”اے ایمان والو!صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو، بے شک الله تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔اور الله تعالیٰ کی راہ میں شہید ہونے والوں کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم کو شعور نہیں۔“(سورہٴ بقرہ، آیت:153،154) دوسری جگہ ارشاد ہے: ”اور ان لوگوں کو بشارت اور خوش خبری دیجئے جو ہر مصیبت کے وقت صبر کرتے ہیں اور” اناللہ واناالیہ راجعون“ پڑھتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی خصوصی عنایات اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔“(سورہٴ بقرہ، آیت:156،157) ارشاد خداوندی ہے: ”اور الله تعالیٰ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتے ہیں۔“(سورہٴ آل عمران:146) نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:” وہ ہم میں سے نہیں جو چہرے پر تھپڑ مارے اور گریبان پھاڑے اور کفر کے جاہلانہ طریقے پر آہ و فغاں اور واویلا کرے۔“(بخاری شریف،ج:1/172) حدیث قدسی میں ہے: ”جو شخص میرے فیصلے اور تقدیر پر راضی نہیں اور میری بھیجی ہوئی مصیبت پر صبر نہیں کرتا تو وہ میرے آسمان کے نیچے سے نکل کر میرے سواکوئی اور رب تلاش کرے۔“ علامہ ابن حجر مکی فرماتے ہیں: ”خبردار اور ہوشیار!عاشورہ کے دن روافض کی بدعتوں میں مبتلا نہ ہوجانا مانند مرثیہ خوانی، آہ و بکاء اور رنج و الم کے، اس لیے کہ یہ خرافات مسلمانوں کے شایان شان نہیں اور اگر ایسا کرنا جائز ہوتا تو حضوراقدس صلی الله علیہ وسلم کی وفات کا دن اس کے لیے زیادہ موزوں تھا۔(الصواعق المحرقہ، ص109) حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں: ”اگر حضرت حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کی شہادت کا دن ”یوم مصیبت و ماتم“ کے طور پر منایا جائے تو یوم ”شنبہ“(پیرکادن) اس غم و ماتم کے لیے زیادہ موزوں ہے اس لیے کہ اس دن حضرت رسول مقبول صلی الله علیہ وسلم نے وفات پائی ہے اور اسی دن حضرت ابوبکر نے بھی وفات پائی ہے۔“(حالا نکہ ایسا کوئی نہیں کرتا) (غنیة الطالبین، ج:2،38) شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: ”اہل سنت کا طریقہ یہ ہے کہ عاشورہ کے دن فرقہ، روافض کی بدعات مثلاً: ماتم، نوحہ وغیرہ سے علاحدہ رہتے ہیں اس لیے کہ یہ مسلمانوں کا کام نہیں ورنہ اس غم کا سب سے زیادہ حق دار پیغمبرحضرت محمدصلی الله علیہ وسلم کی وفات کا دن تھا۔“(شرح سفرالسعادةص543) معلوم ہوا کہ ماہ محرم میں ماتم، نوحہ خوانی، زنجیرزنی اور تعزیہ وغیرہ جیسی غیراسلامی رسومات روافض کی اپنی طرف سے گھڑی ہوئی ہیں، اسلام میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ لہٰذا سنی حضرات کو چاہیے کہ ان کی غیر شرعی مجالس میں شرکت نہ کریں اور جو حضرات ناواقفی کی بنا پر شرکت کرتے ہیں، انہیں سمجھا کر ان کو منع کریں۔ الله تعالیٰ ہمیں ان رسومات و بدعات سے بچائیں اور راہ راست پر چلنے کی توفیق عطافرمائیں۔ آمین۔ محرم میں ایصال ثواب سوال …محرم کے مہینے میں بعض لوگ نویں دسویں گیارھویں تاریخ کو حلوہ، کھچڑا اور کھانا پکانے کا اہتمام کرتے ہیں، پکانے کے بعد لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ کیا اسلام میں ان تاریخوں میں کھانا پکانے کا اہتمام اور پکاکر تقسیم کرنا درست ہے یا نہیں؟اوراس کھانے کا کیا حکم ہے؟ کھانا درست ہے یا نہیں؟ جواب …محرم کے مہینے میں بالخصوص نویں، دسویں اور گیارھویں تاریخ کو کھانا، کھچڑا اور حلوے پکاکر حضرت حسین رضی الله عنہ کی روح کو ایصال ثواب ناجائز وبدعت ہے۔ مروجہ کھانا وغیرہ صرف نام و نمود اور ریا کاری کے لیے پکایا جاتا ہے، اس کے علاوہ فساد عقیدہ کی وجہ سے اس میں اور بھی قباحتیں ہیں جو کہ درج ذیل ہیں: اول: جن ارواح کو ایصال ثواب کیا جاتا ہے ان کو لوگ اکثر و بیشتر نفع و نقصان کا مالک سمجھتے ہیں اس وجہ سے کھانا پکاکر دیتے ہیں اور یہ صریح شرک ہے اورایسا کھانا حرام ہوتا ہے اور الله تعالیٰ کے اس ارشاد کے تحت داخل ہوتا ہے: ”وما اھل لغیرالله بہ“(مائدہ آیت۔3) ”حرام ہے وہ جانور جس پر نام پکارا جائے الله تعالیٰ کے سوا کسی اور کا۔“ دوئم:بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ جو چیز صدقے میں دی جاتی ہے میت کو بعینہ وہی چیز پہنچ جاتی ہے یہ خیال لغو اور غلط ہے۔ سوئم:یہ تاریخ متعین کرنا کہ ان تاریخوں میں کھانا پکانا ہے، یہ اپنے اوپر غیر ضروری چیز کو لازم سمجھنا التزام مالایلزم میں داخل ہے۔ لہٰذا اس وجہ سے اس رسم کو ترک کرنا ضروری ہے۔ حلیم کے لیے چندہ دینا، حضرت حسین کی نیاز کرنا سوال… کیا فرماتے ہیں مفیتان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: محرم الحرام میں جو چندہ حلیم کے نام، یا سبیل کے نام پر دیا جاتا ہے، یہ دینا درست ہے یا نہیں؟ حضرت حسین یا اور مردوں کی نیاز کرنا جائز ہے یا نہیں؟ جواب… حلیم کے لیے چندہ دینا اور غیر الله کی نیاز چڑھانا ناجائز اور حرام ہے لہٰذا ایسی اشیاء کے کھانے پینے سے احتراز لازمی ہے۔ سبیل کا شربت سوال …ہر سال محرم کے مہینے میں ”سبیل حسین“ کے نام سے سبیل لگائی جاتی ہے،اس طرح سبیل لگانا اور اس سے پانی پینا جائز ہے یا نہیں؟ جواب … لوگوں کو پانی پلانا کارخیراور ثواب کا کام ہے، لیکن محرم کے مہینے میں پہلی تاریخ سے لے کر دسویں محرم تک شربت تقسیم کرنا اور سبیل لگانا بہ چند وجوہ ناجائز ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ سبیل لگانے اور شربت پلانے والوں کا خیال ہے کہ اس سے کربلا کے شہیدوں کی پیاس بجھ جاتی ہے، حال آنکہ یہ عقیدہ بالکل باطل اور فاسد ہے۔ اس لیے کہ شہدا جنت کی نعمتوں میں ہوتے ہیں، ان کو اس شربت وغیرہ کی کیا ضرورت؟ دوسری وجہ یہ ہے کہ سبیل لگانے اور شربت پلانے کا مقصد ایصال ثواب ہے اور ایصال ثواب کے لیے عشرہٴ محرم کی تخصیص اور باقی دنوں میں اس عمل کو ترک کرنا ترجیح بلا مرجح ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ سبیل لگانے میں روافض کے ساتھ تشبہ بھی ہے۔ لہٰذا سنی حضرات پر لازم ہے کہ سبیل لگانے اور روافض کی لگائی ہوئی سبیل کا پانی پینے سے اجتناب کریں۔ ماہ محرم میں شادی سوال …ہمارے ہاں محرم کے مہینے کو سوگ کا مہینا قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس مہینے میں شادی بیاہ ناجائز ہے۔ کیا واقعتاً محرم کا مہینہ سوگ کا مہینہ ہے اور اس میں شادی کرنا ناجائز ہے؟ جواب …ماہ محرم کو ماتم اور سوگ کا مہینا قرار دینا ناجائز و حرام ہے، اس لیے کہ شریعت مطہرہ نے سوگ منانے کے لیے عام رشتہ داروں کو تین دن اور بیوہ کو چار مہینے دس دن تک اجازت دی ہے۔ اسی طرح اس مبارک مہینے میں شادی وغیرہ کو ناجائز سمجھنا سخت گناہ اور اہل سنت کے عقیدے کے خلاف ہے۔ اسلام نے جن چیزوں کو حلال اور جائز قرار دیا ہے ان کو اعتقاداً یا عملاً ناجائز اور حرام سمجھنے میں ایمان کا خطرہ ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کوچاہیے کہ روافض اور شیعہ کے اعتقادات اور رسومات سے بچنے کی کوشش کریں۔ دسویں محرم کو روزہ رکھنا سوال …کوئی شخص صرف دسویں محرم کو روزہ رکھتا ہے، نویں یا گیارھویں کو اس کے ساتھ روزہ نہیں رکھتا تو اس طرح روزہ رکھنا درست ہے یا نہیں؟ جواب …دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم کا بھی روزہ رکھنا چاہیے، اگر نویں کا روزہ نہ رکھ سکے تو گیارھویں کا روزہ رکھے، ورنہ صرف دسویں محرم کا روزہ مکروہ ہوجائے گا۔ استخارہ اور اس کا مسنون طریقہ سوال… محترم مفتی صاحب! مجھے استخارہ کا مسنون طریقہ بتا دیجیے، بہت مہربانی ہو گی۔ جواب… واضح رہے کہ استخارہ سے مقصود رفع تردد، ایک جانب کو ترجیح اور طلب خیر ہے، نیز اس کامشروع طریقہ یہ ہے کہ استخارہ خود کیا جائے۔ لہٰذا آپ اگر تردد کا شکار ہیں اور کسی ایک جانب کو ترجیح دینا چاہتے ہیں تو سونے سے پہلے دو رکعت نماز نفل پڑھیں، بہتر یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورہٴ کافرون اور دوسری رکعت میں سورہٴ اخلاص پڑھیں، سلام پھیرنے کے بعد حمد وثناء اور درود شریف کے بعد انتہائی خشوع خضوع اور تضرع کے ساتھ یہ دعاء پڑھیں: ” اللھم انی استخیرک بعلمک واستقدرک بقدرتک، واسئلک من فضلک العظیم، فإنک تقدر، ولا اقدر وتعلم ولا اعلم، وانت علام الغیوب، اللھم ان کنت تعلم ان ھذا الامر خیرلی فی دینی ومعاشی وعاقبة امری فاقدرہ لی ویسرہ لی ثم بارک لی فیہ، وان کنت تعلم ان ھذا الامر شرلی فی دینی ومعاشی وعاقبة امری فاصرفہ عنی واصرفنی عنہ واقدر لی الخیر حیث کان ثم ارضنی بہ۔ جب ” ھذا الأمر“ پڑھیں تو جس چیز کے لیے استخارہ کر رہے ہیں اس کا خیال کریں ، اس کے بعد پاک وصاف بچھونے پر باوضو قبلہ کی طرف رخ کرکے سو جائیں ، صبح کو جس جانب زیادہ رحجان ہو اس کو اختیار کریں ، ان شاء الله اسی میں خیر ہو گی، اگر ایک دن میں خلجان اور تردد دور نہ ہو تو اسی عمل کو سات دن تک کریں ، الله نے چاہا تو اطمینان اور حجان حاصل ہو جائے گا۔ البتہ اگر تردد نہیں ہے، ویسے ہی کوئی پریشانی ہے ، تو دو رکعت صلاة الحاجات پڑھ کر الله سے رو رو کر مانگیں، توبہ واستغفار بھی کریں، نیز صبح وشام یہ دعا پڑھ لیا کریں: ”اللھم انی أعوذبک من الھم والحزن واعوذبک من العجز والکسل واعوذبک من الجبن والبخل، واعوذبک من غلبة الدین وقھر الرجال“․ ہم بھی آپ کے لیے دعاگو ہیں ، الله رب العالمین آپ کی تمام جائز حاجتوں کو پورا فرما کر آسانی اور عافیت کا معاملہ فرمائیں۔ شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کا کسی بچہ کو گود لینا سوال…دسمبر1997ء میں زید نے دوسری شادی کر لی اب تقریباً آٹھ سال گزرنے کے باوجود زید کو دوسری بیوی سے کوئی اولاد نہیں ہوئی کچھ عرصہ پہلے زید کی بیوی اپنے لیے ایک پرایا بچہ گود لینے کا کہتی رہی ۔ لیکن زید نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میرے پانچ بچے ہیں اور پرایا بچہ میں نہیں لے سکتا اور نہ میرے بچے اس پرائے کو قبول کریں گے۔ اب آج سے دس دن پہلے زید کی بیوی ایک پرایا بچہ شوہر کے انکار کے باوجود زبردستی شوہر کے گھر لے آئی اور اسے پال رہی ہے، زید نے اپنی بیوی کے اکلوتے بھائی سے رابطہ کیا، زید کے سالے نے کہا کہ بچے کا خرچ سب اس کی ماں ( زید کی بیوی) برداشت کر ے گی۔ لیکن پھر بھی زید اس پرائے بچے کو گود لینے، پالنے اور گھرمیں رکھنے سے انکار ی ہے۔ اب آخر میں عرض ہے کہ شریعت کے مطابق اس مسئلے کا کیا حل ہے وضاحت کریں کہ کیا زید کی بیوی اپنے شوہر زید کی رضا مندی کے بغیر اس بچے کو گودلے سکتی ہے، زید ہی کے گھر میں پرورش کرسکتی ہے یا نہیں ؟ جواب… شریعت کی رو سے زید کی بیوی زید کی اجازت اور رضامندی کے بغیر نہ کسی بچے کو گود لے سکتی ہے اور نہ زید کے گھرپال سکتی ہے ، مباح امور میں شوہر کی اطاعت واجب ہے، لہٰذا زید کی بیوی کو چاہیے کہ شوہر کو راضی کرے، بصورت دیگر بچہ واپس کر دے۔ |
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
پاک اردو انسٹالر
<center><a target="_blank" href="http://www.mbilalm.com/urdu-installer.php" title="Pak Urdu Installer...
-
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّی عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم تسہیل علم النحو علم نحو کی تعریف عربی ...
-
سوال: مشینی ذبیحہ کے متعلق شریعتِ مطہرہ کی کیا تعلیمات و احکامات ہیں؟ جواب: جانور کو ذبح کرنے کی شرائط میں سے یہ ہے کہ ذبح ک...
-
اسمائے حسنی ( اَللّٰہُ (خدا تعالی کاذاتی نام * جوشخص روزانہ ایک ہزار مرتبہ ’’ یَااَللّٰہُ ‘‘ پڑھے گا، انشاء اللہ اس کے دل سے ت...











